Sunday 5 March 2017

اھلِ بیت کی افضلیت و تسلیمی

سیّد الشریعت،  امام المعرفت،  شہنشاہ الاولیاء،  تاجدار الصوفیاء، سلطان العرفاء اور رازدارِ وحدت مولا علی بن ابیطالب علیہ السلام نے اھل بیت کی افضلیت،  اہمیت،  افادیت اور ضرورت کی بابت ارشادات فرمائے ہیں یقیناً قابل غور و فکر و عمل ہیں اور ثابت ہوتا ہے اھل بیت کی خلقت مقدّسہ اللہ تعالٰی کے نور قدیم سے ہوئ ہے-
 فرمودات ملاحظہ فرمائیں:--
* اپنے نبی صلٰی اللہ علیہ و الہ وسلم کے اھل بیت کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں کی سمت کے پابند ہوجاؤ،  انکے آثار کا اتباع کرو کیونکہ یہ لوگ کبھی تمہیں ہدایت کی راہ سے دور نہیں کرینگے اور نہ ہی کبھی ضلالت و گمراہی کی طرف لوٹائیں گے- اگر کبھی یہ خاموش رہیں تو تم بھی چپکے بیٹھو اور اگر یہ اٹھ کھڑے ہوں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو،  کبھی ان سے آگے نہ بڑھو ودنہ گمراہ ہوجاؤگے اور نہ ان سےگ پیچھے رہ جاؤ ورنہ ہلاک ہوجاؤگے
*  ان کی شان میں قرآن کی آیات کریمہ ہیں،  یہ لوگ. رحمان کے خزانے ہیں اگر بولتے ہیں تو سچ اور اگر یہ خاموش رہتے ہیں تو کوئ ان سے آگے بڑھنے کا حق نہیں رکھتا
* ہم اھل بیت خدا کی نشانیاں،  رسول اللہ کے سچّے ساتھی،  انکے علوم کے خزانہ دار اور علم لدّنی کے دروازے ہیں اور گھر میں صرف اب وازے کے ذریعے آمدورفت ہوتی ہے لہذٰا جو بھی دروازہ چھوڑ کر کہیں اور سے داخل ہوگا وہ چور کہا جائیگا
* آلِ محمد. کی اس امّت میں کوئ برابری یا ہماری نہیں کرسکتا اور انکے ٹکڑوں پر پلنے والے کبھی انکے برابر نہیں ہوسکتے- یہ دین کی اساس اور یقین کے ستون ہیں،  غلو کرنے والا انہیں کی طرف پلٹے گا اور پیچھے رہ جانے والا بھی آخرکار انہیں سے ملحق ہوگا،  حقِ ولایت و حکومت کی خصوصیات،  رسول صلعم کی جانشینی اور وراثت سب کچھ ان ہی کا ہے،  اب جاکر حق صاحبِ حق کی طرف پلٹا ہے اور اپنی حقیقی جگہ منتقل ہوا ہے
* اھل بیت ہی اللہ کے اسرار کے امین و رازدار،  اسکے دستورات کےلئے جائے پناہ اور اسکے علم کے ظروف ہیں،  اسکی کتابوں کی پناہگاہ اور اسکے دین کے کوہ ہائے استوار ہیں،  انہیں کے ذریعے اس دین کی کمر کا خم درست ہوا اور اسکے احکام و فرائض کی لرزہ بر اندامی ختم ہوئ. * سب سے بڑا عقل کا اندھا وہ ہے جو ہماری محبت و فضل سے اندھا ہو اور ہمارے کسی بھی گناہ کے بغیر ہم سے دشمنی روا رکھے جز اسکے کہ ہم نے اسے حق کی طرف بلایا اگر یہ کوئ گناہ ہے جبکہ دوسرے نے اسے فتنہ و دنیاداری کی طرف بلایا،  اس نے اسے قبول کرلیا اور ہم سے دائمی کرلی
* خوش نصیب ترین شخص وہ ہے جو ہماری فضیلتوں کو سمجھ لے اور اللہ کا تقّرب ہمارے. ذریعے حاصل کرے اور ہم سے خالص محبت رکھے،  ہم نے جو کچھ کہا اس پر عمل پیرا ہو اور ہم نے جس سے منع کیا اسے ترک کرے پس وہ ہم میں سے ہے اور وہ دار جاودانی میں ہمارے ساتھ ہوگا
* سب سے اچھی نیکی ہماری محبت ہے اور سب سے بڑی بدی ہم سے نغض ہے
* ہمارے نزدیک اوّلیت اسی کو حاصل ہے جس نے ہم سے محبت اور دوستی کی اور ہماری دشمنی رکھنے والے سے عداوت روا رکھی
* ہم اھل بیت نبّوت کا شجرہ،  رسالت کی منزل،  ملائکہ کی فرودگاہ،  علم کا معدن اور حکمت کا سرچشمہ ہیں- ہماری نصرت کرنے والا اور ہم سے محبت کرنے والا رحمت کےلئے چشم براہ ہے اور ہم سے دشمنی و عناد رکھنے والے کو قہرِ الٰہی کا منتظر رہنا چاہئیے
* حضور صلعم نے اھل بیت کی شان میں ہزاروں احادیث بیان فرمائی ہیں،  قرآن پاک کی سیکڑوں آیات تفسیر کی ہیں جنہیں زرخریدوں،  مفاد پرستوں،  حاسدوں اور دشمنوں نے ہر دور میں چھپانے،  پردہ ڈالنے اور مسخ کرنے کی کوشش اور سازش کی ہے،  غرضکہ اھل بیت تاریکیوں کے چراغ،  امّت کےلئے سامانِ حفاظت،  دین کے روشن مینار اور فضل و کمال کا بلند معیار ہیں
* حضور کی شہرہ آفاق حدیث ہے جو علامتی طور پر امتِ محمدی کے دو ہی فرقوں حق و باطل کی غمّاز ہے یعنی میرے اھل بیت کی مثال کشتیءنوح جیسی ہے جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا حتٰی کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات ہوگی اور جو کشتی سے فرار یا دور ہوا وہ غرقاب ہوکر گمراہ اور جہنّم کا مستحق ہے
* میں تم میں دو برابر وزن کی گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں قرآن کتاب اللہ اور اھل بیت عترت معلّمان و وارثانِ قرآن- ان دونوں کو ساتھ رکھوگے تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے اور دونوں میں کسی ایک کو چھوڑدوگے تو گمراہ ہوجاؤگے
* بحکم اللہ اجرِ رسالت ادا کرو جو میرے اقرباء اھل بیت عترت کی مودت و محّبت ہے
* میری امّت میں 73 فرقے ہونگے جن میں 72 جہنمی ہونگے اور ایک ہی فرقہ ناجی ہوگا -- حضور کی احادیث اور قرآن کی آیات کی روشنی میں ہر مسلمان کو اپنا دل ٹٹول کر خود فیصلہ اپنی بصیرت سے کرلینا چاہئیے کہ اللہ و رسول نے اھل بیت کو سفینہءنجات،  مصباحِ دین،  امّت کا مسیحا اور نجات دہندہ قرار دیا ہے تو فرقہء ناجیہ اھلِ بیت سے تمسّک رکھنے والا ہے خواہ سیاسی و دنیاوی طور پر کسی بھی فرقہ،  فقہ و مسلک سے تعلق رکھتا ہے مگر فرقہءحق و نجات کا تعلق صرف فقہءمحمدی سے ہے جو محمد  صلعم سے شروع ہوکر امام مہدی علیہ السلا پر تمام ہے جہاں محمد و آلِ محمد کی سنّت،  سیرت،  کردار اور فقہ واحد و منفرد ہے
نظام الحسینی

No comments:

Post a Comment