Sunday, 5 March 2017

AYYAM E FATEMI (sa)

Riwayat:
H. Ali (as) farmate hain, "Ek nabina (blind) shakhs J. Fatima (sa) ke darwaze par aaya aur andar aane ki ijazat chaahi. Bibi Fatima (sa) parde ke pichhe chali gayi'n. Rasule Khuda (saww) ne beti se farmaya, 'Tumne kyun parda kar liye jab ke wo nabina hai, tumhe nahi dekh sakta?' Bibi Zahra (sa) ne farmaya, 'Agar wo mujhe nahi dekh sakta, to main to usay dekh sakti hoo'n aur mumkin hai ke wo mere jism ki buu (fragrance) soongh le'. Rasulallah (saww) J. Fatima Zahra (sa) ki ye baat sun-kar intehaayi khush huwe aur farmaya, 'Gawaahi deta hoo'n ke tum mera ek tukda ho'."
(Haraam Nigaah, p51)
(Bihaar ul Anwaar, v3, p116)


Riwayat:

Rasule Khuda (saww) ki ek biwi Umme Salmah farmaati hain ke, "Main ek din Maimoona (jo Rasule Khuda (saww) ki biwiyo'n mein se hain) ke saath Paighambar (saww) ki khidmat mein thi. Itne mein ek nabina (blind) Sahaabi Ibne Maktoom tashreef laaye. Rasule Khuda (saww) ne farmaya, 'Ihtejab. Tum dono parda kar lo'. Humne kaha, 'Kya wo nabina nahi hai?' Rasule Khuda (saww) ne farmaya, 'Kya tum dono bhi nabina ho? Kya tum dono unhe nahi dekh sakti ho?' Jabhi Surah Nur ki 31 Ayat mein hai ke 'Aye Rasul (saww)! Momena aurato'n se bhi keh dijiye ke wo bhi apni nigaaho'n ko neeche rakhein'."
(Haraam Nigaah, p26)

خدا شناسی اور قربِ الٰہی

شریعت ظاہری اور مجازی ہے جبکہ طریقت نورانی،  باطنی،  روحانی اور عرفانی ہے- لا الہ الّا للہ نفی اور اثبات ہے جسکے ظاہری معنی پہلے تمام خداؤں کا انکار اور پھر وحدہ لا شریک کا اقرار ہے- واضح رہے کہ کلمہءشہادت،  نما،  روزہ وغیرہ کی صورت بھی اور حقیقت بھی انکے حقائق کو چھوڑ کر صرف ظاہر. صورتوں پر قناعت کرلینا فضول ہے- وہ شخص بڑا احمق ہے جو انکے حقائق تک نہیں پہنچتا- اللہ ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہیگا- سالک ابتدا میں نابینا ہوتا ہے جب حق تعالٰی کی طرف سے اسے بینائ مل جاتی ہے تو پھر اس سے دیکھتا اور سنتا ہے اور اپنے آپ کو فراموش کردیتا ہے اور جب ایسی صورت ہوجائے تو واصل ہمیشہ کےلئے زندہ اور بقاباللہ ہوجاتا ہے-" عارف معارف حق آگاہ،  عاشق اللہ"- فقیرِ کامل اسے کہتے ہیں جو تمام ضروریات سے فارغ ہو اور اسکے باقی رہنے والے جمال کے سوا اور کسی چیز کا طالب نہ ہو کیونکہ تمام موجودات اسکے باقی رہنے والے کا آئینہ اور مظہر ہیں اس واسطے وہ ان سب میں اپنا مقصود دیکھتا ہے- لہذٰا کامل فقیر وہ ہے جسکے دل سے سوائے اللہ تعالٰی کے اور کوئ مقصود و مطلوب نہ ہو جب ماسوا اللہ دل سے دور ہوجاتاہے مقصد حاصل ہوجاتا ہے پس طالب کو ہمیشہ مطلوب و مقصود کے درپے رہنا چاہئے معلوم ہونا چاہئے کہ مقصود یہی درد و سوز ہےخواہ حقیقی ہو یا مجازی،  یہاں سوزِ مجازی سے مراد ابتدائے احکامِ شریعت اور سوزِ حقیقی سے مراد معرفت ہے- 
من عرف اللہ لا یقولُ اللہ و من یقولُ ما عرف اللہ یعنی جسے معرفتِ حق تعالٰی حاصل ہوجاتی ہے وہ اللہ اللہ نہیں کہتا پھرتا جو کہتا پھرتا ہے اسے معرفت میّسر نہیں بمصداق من عرفہ ربّہہ فقد عرفہ ربّہہ یعنی جس نے اپنے/ ذات/ ہستی/ وجود کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان لیا بمصداق من عرفہ ربہہ فقد کُل لسانہی و قطع امر یعنی جس کو اپنے رب کی معرفت حاصل ہوگئ وہ گونگا اور لنگڑا ہوگیا- عارفِ کامل کی حالت مقامِ یاد سے بھی گزر جاتی ہے کیونکہ یاد بھی ایک قسم کی دوئ ہے اور دوئ عارفوں کے نزدیک نقص ہے- ارشاد خداوندی ہے وَ ھُوَ معکم اینما کُنتم یعنی تم جہاں بھی ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے- عارف صحیح معنوں میں شہنشاہ ہوجاتا ہے اسے بجز ذات ایزدی نہ کسی سے امید ہوتی ہے اور نہ کسی سے ڈر- ایسے لوگوں کے حق میں باری تعالٰی کا ارشاد ہے الا انّ اولیاء اللہ لا خوف علیہم ولا ھم یحزنون یعنی اولیاء اللہ کو نہ کسی کا خوف ہوتا ہے نہ کسی کا ڈر- اللہ بندے کے دل میں ہے اور دل قالبِ انساں میں،  مگر دل دو قسم کا ہے ایک دلِ مجازی دوسرا دلِ حقیقی- حقیقی دل وہ ہے جو نہ داہنے جانب ہے نہ بائیں جانب نہ اوپر کی طرف نہ نیچے کی طرف نہ دور نہ نزدیک مگر اس حقیقی دل کی شناخت آسان نہیں صرف مقّربانِ خدا اسکی معرفت رکھتے ہیں مومنِ کامل کا دل درحقیقت عرشِ خدا ہوتا ہے- قرب و حضوری بغیر صحبتِ مرشدِ کامل حاصل نہیں ہوسکتی،  معرفت کے اسرار و رموز کا گنجینہ وہی ہوتا ہے کامل اور طالبانِ صادق سوال و جواب و مناظرہ و بحث نہیں کیا کرتے بلکہ خاموش اور با ادب رہتے ہیں-
 قربِِ الٰہی اور خدا شناسی ایک دقیق مسئلہ ہے اور اسکی طلب اور حصول کے باب میں ابتک لاتعداد عرفاء،  اولیاء و صوفیاء نے طبع آزمائی کی ہے اور اس دشوار گزار منزل تک پہنچنے میں رہنمائ کی ہےطالبانِ حق کو" اللہُ الصمد" اور " لَم یَلِد الم یُولَد" کے اسرار و انوار کا ماہر ہونا چاہئے- سوائے اھلِ معرفت کے کسی اور کو عشق کے اسرار و رموزات سے واقف نہیں کرانا چاہئے- اہلِ معرفت کی معرفت کیسے حاصل ہو؟ اھلِ معرفت کی شناخت و علامت ترک ہے- جس میں ترک ہے یقیناً وہ اھلِ معرفت ہے اور اسے قربِ الٰہی اور خدا شناسی حاصل ہے اور جس میں ترک نہیں اس میں معرفتِ حق کی بُو بھی نہیں- کلمہءشہادت اور نفی و اثبات حق تعالٰی کی معرفت ہے،  مال،  جاہ و سطوت،  مرتبہ و منصب،  دولت و ثروت،  حرص و طمع،  شہرت و نمئش بڑے بھاری بت اور دیگر خدا ہیں- اس نفس پرستی،  ہوس پرستی،  دنیا پرستی،  خود پرستی اور جاہ پرستی نے خدا پرستی سے ہمیشہ دور کیا ہے،  اچھے اچھّوں کو گمراہ کیا ہے اور صراطِ مستقیم سے دور کیا ہے،  راہِ حق سے بھٹکایا ہے، اللہ و رسول و آلِ رسول کی تعلیمات،  احکامات،  فرمودات،  ارشادات اور تلقینات سے انحراف کرایا ہے،  اھلِ بیت کے سفینے سے دور کرایا ہے،  قرآن بظاہر کیکر معّلمان اور وارثانِ قرآن اھلِ بیت عترت کا دامن چھڑوایا ہے، بحکمِ الٰہی اجرِ رسالت نہیں ادا کررہے ہیں- اھلِ بیت پر صحابہ کو مقّدم کررہے ہیں،  محمد و آلِ محمد کی اہمیت،  افادیت،  افضلیت اور معرفت سے انکار کرتے آئے آئے ہیں،  محمدیت اور حسینیت کو فراموش و نظر انداز کرکے فقہءمحمدیہ کو ترک کرکے مختلف فقہوں،  فرقوں اور مسلکوں میں منقسم ہوکر راہِ نجات کے متلاشی ہیں- یہی لوگ معبودوں کی پرستش کررہے ہیں،  یہی لوگ معبودِ خلائق بن رہے ہیں، یہی لوگ جاہ و مال و منصب کی پوجا کررہے ہیں،  پس جس نے مال و جاہ اور دنیا کی محبت دل سے نکال دی اسنے گویا پوری کی پوری نفی کردی اور جسے حق تعالٰی کی معرفت حاصل ہوگئ اس نے پورا کا پورا اثبات کرلیا جس نے کلمہء طیّب و کلمہءشہادت باطنی نہیں پڑھا اسے قربِ الٰی اور خداشناسی حاصل نہیں- نفی اپنے آپ کو نہ دیکھنا اور اثبات اللہ کے سوا کسی کو نہ دیکھنا ہے،  بس نفی کی کرنا چاہئے ورنہ نفی کا کوئ فائدہ نہیں،  صرف یہ ملحوظ رہے کہ ہستی صرف اللہ پاک کی ہستی ہے تو مطلب حاصل ہوجاتا ہے اور عارف فنا فی اللہ ہوجاتا ہے کیونکہ کوئ بھی خود بیں خدا بین نہیں ہوسکتا.... 
* نظام الحسینی

امّتِ محمّدیہ کے بس دو فرقے ہیں

حقیقی معنوں میں امّتِ محمدیہ یا امّتِ مسلمہ میں دو ہی فرقے ہیں شرعی اسلام میں ایک فرقہ وہ ہے جو حضور صلعم کی تین شہرہ آفاق احادیث کو مشعلِ راہ بناکر آخرت سنوارنے کو اپنا نصب العین تصّور کرکے عمل پیرا ہے:----


* میرے اھلِ بیت کی مثال کشتیءنوح جیسی ہے جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جو اس سے دور. ہوا گمراہ ہوکر غرقاب ہوگیا  فرقہءحق وہ ہے جو سفینہء اھلِ بیت پر سوار ہوا اور فرق ہائے باطل وہ ہیں جو اھلِبیت کے سفینے سے فرار یا دور ہوئے
* میں امّت میں دو گرانقدر برابر وزن کی چیزیں قرآن یعنی کتاب اللہ اور اھلِ بیت عترت یعنی وارثان و معلّمانِ قرآن چھوڑ جارہا ہوں جو ان دونوں کو ساتھ رکھیں گے کبھی گمراہ نہ ہونگے حتٰی کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے اور جو مسلمان دونوں میں سے کسی ایک کو چھوڑ دیگا گمراہ ہوکر جہنّم کو اپنا ٹھکانا بنالےگا یعنی قرآن اور اھلِ بیت کو ہم رتبہ و ہم درجہ قرار دینے والا فرقہء ناجیہ ہے اور کسی ایک کو ترک کرنے والا فرقہءناریہ میں شمار ہوگا- مقام افسوس اور عبرت ہے کہ رحمت العالمین کے ظاہری پردہ فرمانے سے قبل ہی حدیثِ رسول سے بغاوت کرکے دشمنیءاھلِ بیت میں اعلان کردیا گیا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے جبکہ بعدِ وفاتِ رسول اصحابِ رسول کےلئے قرآن کافی نہیں ہوا اور اکابرین کو درِ اھلِ بیت پر دینی،  شرعی،  فروعی اور فقہی مسائل کےلئے بار بار رجوع کرنا پڑا ایسے موقع پر اللہ کے منتخب ھادی انہیں گمراہی کے بجائے صراطِ مستقیم دکھاتے اور چلاتے رہے اور مشکل کشائ اور حاجت روائی کرتے رہے،  رسول کو اپنا جیسا بشر سمجھنے والے ہوتے تو خلفائے وقت سے بدلہ لینے کےلئے گمراہ اور بے دین کردیتے مگر ائّمہ اطہار نے ان پر ہمیشہ رحمتوں،  برکتوں،  عنایتوں،  شفقتوں، سخاوتوں اور فیّاضیوں کی بارش کرکے دینِ حقّانیہ کو محفوظ رکھ کر پروان چڑھایا نیز اپنے زرّیں مشوروں سے نوازا کیونکہ رب العالمین کے رحمت العالمین نے مولائے کائنات کو صبر و ضبط و تحمّل کی وصّیت کی تھی تاکہ ظاہری خلافت کےلئے امّت فرقوں میں نہ منقسم ہو جائے- اسطرح وفاتِ رسول کے بعد امّت محمدیہ دو فرقوں امامت اور ظاہری خلافت میں منقسم ہوگئ ایک فرقہ غدیری اصحاب اور دوسرا فرقہ ثقیفائ اصحاب کی صورت میں نمودار ہوا اور حضور کے غدیری اعلان اور خطبے کو نظر انداز اور مسترد کردیا گیا جبکہ حضور نے وفات سے قبل بارہ جانشینوں اور خلفاء راشدہ کے نام امام علی سے لیکر امام مہدی تک بتادیا تھا اور ایک موقع پر یہ بھی وضاحت فرمادی تھی کہ بارہ کے بارہ قریشی اور ہاشمی ہونگے اور امامت نسلِ فاطمہ سے بذریعہ نسلِ حسین میں رہے گی مگر امت جمہوریت کے جذبے سے سرشار تھی اور اقوال،  افعال، اعمال،  احوال اور. احکامِ رسول کو فراموش کرکے امت کو غدیری اور ثقیفائ محاذوں پر لا کھڑا کیا گیا
* االوداعی حج کے موقع پر غدیرِ خُم میں دین مکمل ہونے،  اللہ کے راضی ہونے اور نعمتوں کے تمام ہونے اور علی کی ولایت کے اعلان اور" من کُنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ" تقریراً اور تصویراً قرار دینے کے ساتھ حضور نے فرمایا کہ آیتِ موّدت کے تحت بحکمِ الٰہی میں 23 سالہ کار رسالت کا اجر طلب کرتا ہوں- ایک لاکھ 24 ہزار صحابیوں اور حاجیوں نے لبیّک کہا اور حضور نے اھلِ بیت کی محبت اور مودت کو اجرِ رسالت قرار دیا مگر لوگوں نے دو ماہ کے اندر اھلِ بیت کی حق تلفی کرکے خوب اجرِ رسالت ادا کیا اور اس وقت سے آج تک اور امام مہدی کے ظہور تک اجرِ رسالت ادا نہ کرنے کی گویا قسم کھا رکھی ہے- اس طرح دو فرقے وہی برقرار رہے یعنی ایک اجرِ رسالت ادا کرنے والا یعنی مذہبِ اھلِ بیت پر عمل کرنے والافرقہ اور دوسرا اھلِ  بیت سے دور رہ کر اجرِ رسالت ادا نہ کرنے والا فرقہ.. اس شرعی مسئلے سے ساری امّتِ مسلمہ واقف ہے کہ درزی کو سلائ کی اجرت دئے بغیر ااور مزدور کا پسینہ خشک ہونے تک اگر اجرت نہ دی جائے تو اللہ کو عبادات قبول نہیں تو جو شخص اپنے رسول کو اجرِ رسالت ادا نہیں کرے گا اسکی عبادات اللہ پاک کس طرح قبول فرمائیں گے
اب نظر کرتے ہیں حضور کی حدیث مبارک کی طرف کہ میری امّت میں 73 فرقے ہونگے جن میں72 جہنمّی اور ایک ناجی اور جنّتی ہوگا- اسی حدیث کو معیار بناکر ہر فرقہ خود کو جنّتی اور دوسروں کو جہّنمی قرار دیتا ہے جبکہ مندرجہ بالا احادیث کی روشنی. میں دو ہی فرقے ثابت ہیں حق و باطل،  قاتل و مقتول،  ظالم و مظلوم،  صادق و کاذب،  امین و خائن،  مومن و منفق،  سفینہءاھلِ بیت پر سوار اور سفینہءاھلِ بیت سے فرار.. 
دراصل حدیثِ مقدّسہ کا باطنی،  روحانی اور عرفانی مطلب علامتی ہے جو اھلِ معرفت ہی سمجھ سکتے ہیں جو لوگ حضور کی اس حدیث سے واقف ہیں کہ حسد ایمان کو اس طرح کھجاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو یا دیمک لکڑی کو تو لمحہءفکریہ ہے کہ جب ایمان ہی نہیں بچے گا تو عبادات واجبی و نفلی کس کام کی؟  حضور نے اھلِ شعور کو علامتی باطنی عرفانی بشارت دی ہے کہ جو فرقہ حسد سے دور اور پاک ہوگا وہی ناجی اور جنّتی ہوگا اور جو فرقے حسد میں. مبتلا ہونگے ناری و جہنّمی ہونگے- حروفِ ابجد کے حساب سے " حسد " کے اعداد " 72" ہیں یعنی حسد رکھنے والے مسلمان خواہ کسی بھی فرقے سے تعلّق رکھتے ہونگے جہنّمی ہیں اس طرح طاطنی طور بھی دو ہی فرقے ہیں... حسد نہ رکھنے والے اور حسد رکھنے والے.... 
آخر میں،  میں امّت مسلمہ کے تمام فرقوں کو حسد سے پاک رہ کر اھلِ بیت کی کشتی پر سوار ہوکر جنّت کی حضور کی بشارت کی دعوت دیتے ہوئے آخرت اور عاقبت سنوارنے کی پرخلوص دعوت دیتا ہوں اور فرقوں،  مسلکوں،  طبقوں ، فقہوں اور گروہوں سے بالاتر ہوکر خود کو صرف اور صرف " محمّدی" بننے،  سمجھنے اور ماننے کی التجا کرتا ہوں کیونکہ اللہ ایک،  رسول ایک،  امام ہر دور میں ایک صفاتی محمّدیعنی علی سے مہدی تک،  قرآن ایک،  بیت اللہ ایک،  شریعت،  طریقت،  حقیقت،  معرفت اور وحدت ایک،  سنت و سیرتِ محمد و آلِ محمد ایک،  فقہءمحمدیہ تا مہدیہ ایک،  ذریعہءنجات اھلِ بیت اور سفینہءنجات اور مصباحِ ہدایت حسین.... منافقوں کو چھوڑ کر سارے مسلمان حسین کو دین،  دین پناہ، نجات دہندہ اور مسیحائے انسانیت مانتے ہیں لہٰذا سبھی  بانیءاسلام محمد صلعم،  محافظِ اسلام مولا علی اور مسیحائے اسلام مولا حسین کی محبت میں متّحد ہوکر حسینیت کے پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مشرکوں،  کافروِں، منافقوں اور دشمنوں کو دندان شکن جواب دے کر اسلام کو دہشت گردوں کا نہیں امن سلامتی اتحاد محبت و اخّوت کا مذہب ثابت کریں.... آمین
* نظام الحسینی

مرارجِ عارفاں

سلطان الہند خواجہ معین الدین اجمیری نے ایک مجلس میں عرفاء کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دفعہ خواجہ ذوالنون مصری ایک صوفی نے سوال کیا کہ عارف کسے کہتے ہیں؟  انہوں نے جواب دیا کہ عارف ہو لوگ ہوتے ہیں جن کے دل سے بشریت کی کدورت دور ہوجاتی ہے اور انکے دل حرص و ہوس سے پاک ہوجاتے ہیں اور ان میں عشقِ الٰہی موجزن ہوجاتا ہے- غیر کی طرف وہ آنکھ اٹھاکر بھی نہیں دیکھتے اور محض عالمِ تصوف ہوکر صوفی بن جانا مناسب نہیں ہے بلکہ اسکے ساتھ خود کو ہمہ تن اخلاق بنانا ہوگا- عارف دنیا کا دشمن اور مولا کا دوست ہے وہ دنیا سے بچتا ہے کیونکہ اس میں حسد و بغض کے سوا اور ہے ہی کیا؟  جو شخص دنیا میں مشغول ہوگیا وہ حق سے دور ہوگیا- اسی طرح  ایک دفعہ خواجہ حسن بصری سے کسی نے عارف کی تعریف پوچھی- انہوں نے جواب دیا کہ عارف وہ ہے جو دنیا سے غرض نہ رکھے اور جو کچھ اسکے پاس ہو راہِ خدا میں لٹادے- خواجہ غریب نواز نے ایک مجلس میں،  جس میں انکے خل یفہ خواجہ قطب الدین بختیار کاکی کے علاوہ شیخ اوحد الدین کرمانی،  مولانا بہاء الدین اور چند دیگر درویش نھیش حاضر تھے،  فرمایا کہ عارفوں کا توّکل یہ ہے کہ اللہ پاک کے سوا کسی غیر سے ہرگز مدد نہ مانگیں بلکہ کسی غیر کو دھیان میشں نہ لائیں- ایک دفعہ خواجہ جنید بغدادی سے پوچھا گیا کہ عارف کا توکل کیا ہے انہوں نے فرمایا کہ عارف کا توکل یہ ہے کہ اسکا دل ان تین چیزوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دے اوّل علم دوم عمل سوم خلوت- ایک اور بزرگ نے کہا کہ عارف وہ ہے جو سوائے ذاتِ الٰہی کے کسی سے محبت نہ کرے اسی طرح ایک اور بزرگ نے کہ کہ عارف کےلئے ضروری ہے کہ وہ موت کو دوست رکھے بےقراری کی حالت میں ذکرِ الٰہی سے راحت حاصل کرے اور دوست کی آمد کے وقت. مضطرب ہوجائے- خواجہ صاحب نے آتشِ نمرود کے موقع پر جبریل نے حضرت ابراہیم خلیل اللہ سے دریافت کیا کہ میں آپکی کوئ حاجت پوری کرسکتا ہوں حضرت ابراہیم نے جواب دیا نہیں تم سے کوئ حاجت نہیں ہے جس سے ہے اس سے بیان کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اللہ ظاہر و باطن کا جاننے والا ہے جب وہ سب کچھ جانتا ہے تو پھر میں کسی اور سے مدد کیوں مانگوں- خواجہ صاحب نے مزید کہا کہ انکے مرشد خواجہ عثمان ہارونی کا کہنا ہے کہ اہلِ محبت سوائے دوست کے کسی اور کی محبت اپنے دل میں جاگزیں نہیں ہونے دیتے جس نے غیر کی طرف دیکھا رنج و غم میں مبتلا ہوا جو دوست کا طلبگار نہیں ھیچ در ھیچ ہے- سہروردی سلسلے کے بانی شیخ شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ دنیا میں دو چیزیں بہت ہی اچھی ہیں ایک صحبتِ فقراء اور دوسری حرمتِ اولیاء- عارفوں کے نزدیک خوف یہ ہے گناہ ترک کردیا جائے تاکہ دوزخ سے نجات ملے،  رجا یہ ہے کہ مولائے کریم کی طاعت بےریا کی جائے تاکہ منزل پر پہنچ کر حیاتِ ابدی حاصل کرے محبت یہ ہے کہ ہر وقت رضائے الٰہی کے حصول میں کوشاں رہے-
 کمال عشق
 ایک دفعہ کسی نے منصور حسین حلاج سے پوچھا کہ دوست کے عشق میں درجہءکمال کیا ہے؟  جواب دیا کہ دوست جو چاہے کرلے عاشق کو ہر حال میں سرِ نیاز جھکانا ہے- دکھ سکھ برا بھلا جو کچھ بھی ہو اسے یار کی طرف سے سمجھ کر خوشی سے قبول کرے ہر وقت کمرِ ہمت باندھ کر رکھے اور احکامِ الٰہی کی تعمیل کرتا رہے- مشاہدہءحق میں اسکے استغراق کا یہ عالم ہوکہ کسی چیز کی سدھ بدھ نہ رہے یہی مقام خاص الخاص ہے- ایک دفعہ شیخ داؤد طائ اپنے حجرے سے باہر تشریف لائے تو آنکھیں بند تھیں،  ایک بزرگ نے بند رکھنے کا سبب پوچھا جواب دیا کہ میں نے 45 سال سے آنکھیں کھولنا ترک کیا ہوا ہے کہ سوائے دوست کے کسی غیر پر میری نظر نہ پڑے کیونکہ دوست کے سوا کسی دوسرے کو دیکھنا شرطِ محبت نہیں ہے- ایک مرتبہ جنید بغدادی سے کسی نے پوچھا کہ راہِ طریقت میں محبت کسے کہتے ہیں؟  جواب دیا کہ عشقِ  الٰہی یا محبتِ الٰہی کا حاصل یہ ہے کہ اللہ اپنے محب کے دل میں اپنے دیدار کا ذوق و شوق پیدا کردیتا ہے اور اسے سرداری عطا کرتا ہے- عاشقِ الٰہی سے کوئ فعل ایسا سرزد نہیں ہوتا جس سے حق سے دوری ہو کیونکہ جس نے حق کو راضی کرلیا،  حق اسکا دوست بن گیا اور جنّت اسکے دیدار کی مشتاق-خواجہ ابو سعید ابو الخیر فرماتے تھے کہ جب اللہ کسی بندے کو اپنا دوست بناتا ہے تو اسکو اپنی محبت عطا کردیتا ہے اور وہ بندہ اپنے آپ کو ہمہ تن  اسکی رضا کےلئے خود کو وقف کردیتا ہے- آخر حق تعالٰی اس کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے تاکہ وہ فنا فی اللہ ہوجائے- اہلِ سلوک کے نزدیک توبہ کی تین اقسام ہیں اول عبادت کےلئے کم سونا دوم دعو کےلئے کم بولنا سوم کم کھانا تاکہ روزہ کی شرط ادا ہوجائے-
خواجہ صاحب نے ایک مجلس میں عشق صادق کے بارے میں بتایا کہ عشق میں صادق وہ شخص ہے کہ خواہ دوست کی طرف سے اس پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑیں وہ زبان سے اُف تک نہ کرے اور بخوشی یہ مصائب برداشت کرکے شکر ادا کرے- شہاب الدین سہروردی نے فرمایا کہ عشق میں صادق وہ شخص ہے کہ اسکے سر پر ہزاروں تلواریں آ پڑیں مگر عالمِ شوقِ دید میں اسے خبر تک نہ ہو- ایک دفعہ قلندر رابعہ بصری،  جو حسن بصری کی طالبہ تھیں،  خواجہ حسن بصری،  خواجہ شفیق بلخی اور مالک دینار ایک مجلس میں یکجا تھے وہاں عشقِ صادق پر گفتگو ہونے لگی-  حسن بصری نے کہا کہ اگر انسان کو عشقِ الٰہی میں کچھ دکھ پہنچے تو صبر کرے- رابعہ بصری نے فرمایا کہ خواجہ اس سے تو  خودی کی بُو آتی ہے- اب مالک دینار نے فرمایا کہاگر انسان کو عشقِ الٰہی میں کچھ دکھ پہنچے تو پھر بھی خوش رہے اور اللہ کی خوشنودی کا طالب رہے- رابعہ بصری نے فرمایا کہ عقشقِ صادق کو اس سے بھی بڑھکر ہونا چاہئے اس پر شفیق بلخی فرمانے لگے کہ عاشقِ صادق وہ ہے کہ اسے ذرّہ ذرّہ کردیا جائے پھر بھی اُف نہ کرے- رابعہ بصری نے فرمایا کہ میرے نزدیک عشقِ صادق یہ ہے کہ عاشق کو خواہ لاکھ مصائب پہنچیں وہ مشاہدہءحق سے غافل نہ ہو- خواجہ اجمیری بھی رابعہ بصری سے متفق تھے
فقرِ صادق
فقرِ صادق یا فقرِ حقیقی مفلسی یا قلاشی نہیں ہے بلکہ اسکا یہ مطلب ہے کہ انسان ہر قسم کی حرص و طمع سے آزاد رہ کر اللہ سے لو لگائے رکھے اور کوئ کامیابی یا محرومی اس میں سرکشی یا پستی کا جذبہ پیدا نہ  کرسکے- ایک باثروت شخص اور ایک باجبروت بادشاہ بھی فقرِ حقیقی کا حامل ہوسکتا ہے بشرطیکہ اسکی دولت و سطوت محض اللہ کےلئے وقف ہو- جب فقر الی اللہ درست ہوجاتا ہے تو غنا غنی باللہ میّسر آتا ہے یہ دونوں احوال ہیں اور ایک کی دوسرے کے بغیر تکمیل نہیں ہوتی- ابو بکر شبلی کا قول ہے کہ فقر کی ادنٰی ترین علامت یہ ہے کہ  اگر کوئ شخص تمام دنیا کا مالک ہوکر اسکو ایک ہی دن میں خرچ کرڈالے اور پھر اسکے قلب میں یہ خطرہ گزر جائے کہ اس میں سے صرف ایک دن کی روزی روک لیتا تو اسکا فقر صادق نہیں ہے- قشیری رسالہءقشیریہ میں یحٰی بن معاذ کے حوالے سے نقل کرتے ہیں کہ فقر کی حقیقت یہ ہے کہ خدا کے سوا ہر چیز سے بے نیازی ہو- یعنی فقر صادق حقیقت میں ترکِ دنیا ہے لیکن اسے جوگ اور رہبانیت سے دور کا واسطہ نہیں- سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء فرماتے ہیں کہ ترکِ دنیا کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اپنے آپ کو برہنہ کرلے مثلاً لنگوٹ باندھ کر بیٹھ جائے- ترکِ دنیا یہ ہے کہ انسان لباس بھی پہنے اور کھانا بھی کھائے البتہ جو کماتا رہے خرچ کرتا رہے جمع کرکے نہ رکھے اور دنیا کی چیزوں میں دل نہ لگائے دنیا پرستی نفس پرستی ہوس پرستی اور دنیا طلبی سے کوسوں دور رہ کر خدمتِ خلق کو نصب العین بنائے رکھے-
 مندرجہ بالا حوالہ جات کا ایک ہی مقصد ہے کہ امِّ مسلمہ باور کرلے کی شریعت اور طریقت ایک سکّے کے دو رخ اور لازم و ملزوم ہیں شریعت پر عمل کرکے ہی طریقت،  حقیقت،  معرفت اور وحدت کی منازل سے ہمکنار ہوکر راہِ سلوک کا مسافر عارف باللہ پر فائز ہوتا ہے- یہ حقیقت عیاں ہے کہ علمِ لدّنی،  معرفت اور تصّوف کے روحِ رواں حضرات پنجتن پاک،  اھلِ بیت اور آلِ محمد ہیں اور ان ہی سے صالح اور طاعت گزار اصحابِ رسول،  تابعین اور تبع تابعین فیضیاب ہوئے جن میں اصحبِ صفّہ قابل ذکر ہیں اور اللہ کے منتخب ائمہ اثنا عشری میں سے 8 ویں امام مطہر تک اولیاء،  عرفاءاور صوفیاء کو بیعت و خلافت دیکر باطنی،نورانی،  روحانی اور عرفانی علوم و تعلیمات سے منّور فرمایا اسکے بعد غیر آلِ محمد بھی پیر و مرشد بنتے گئے اور سلاسل وجود میں آئے جس طرح شریعت میں شروع سے آخر تک یعنی محمد سے مہدی تک ایک ہی شریعت ایک ہی سنت ایک ہی سیرت اور ایک ہی فقہءحقانی ہے اسی طرح طریقت،   حقیقت،  معدفت اور وحدت سب کا منبع،  محور اور مرکز محمد و آلِ محمد ہیں اور جو معرفت اور تصوف پنجتن پاک،  اھلِ بیت،  آلِ محمد سے ہٹ کر ہے وہ معرفتِ دنیاوی تو ہوسکتی ہے معرفتِ الٰہی ہرگز نہیں ہوسکتی- میں نے چند اولیاء و صوفیاء و عرفاء کے احوال و اقوال اس لئے پیش کئے کہ اندازہ ہوسکے کہ جن خاص الخاص اشخاص نے علم شریعت اور معرفت در پنجتن پاک اور آلِ محمد باالخصوص شاہِ ولایت مولا علی اور شہنشاہ الفقراء حضرت امام حسین سے پھر انکے غلاموں سے پھر انکے خادموں اور مقّلدوں سے حاصل کیا وہ فقر و معرفت کے کتنے اعلٰی و ارفع مقامات پر فائز ہوکر غوث،  قطب،  ابدال،  ابرار،  اخیار اور نقباء بن گئے اور حرفِ آخر ولی بن گئے یا علی کہنے والے.... جب ان غلاموں کے غلاموں کا اللہ کی نظروں میں یہ اعلٰی مقام ہے تو انکے آقاؤں کی معرفت کون بیان کرسکتا ہے سوائے اللہ اور رسول صلعم کے......... 
* نظام الحسینی

نیاز بے نیاز حضرت مولانا شاہ نیا بریلوی قادری چشتی

ندستان کے کامل ولی اور صوفی باصفا،  دانائے رازِ شریعت و طریقت،  نیاز بے نیاز حضرت مولانا شاہ نیا بریلوی قادری چشتی سرھند شریف میں 1742 ء میں پیدا ہوئے- آپ حضرت محمد حنفیہ بن شاہ ولایت مولا علی علیہ السلام کی اولاد میں ہیں- آپ کشف و کرامت کے مالک اور بہت عمدہ صوفی شاعر تھے

نیاز ایسا ولی بر حق کہ پیر و مرشد ہو اولیاء کا
بتا تو امّت میں اس نبی کی کوئ بھی بن بو تراب دیکھا

عشق میں تیرے کوہ غم سر پہ لیا جو ہو سو ہو
عیش و نشاط زندگی چھوڑ دیا جو ہو سو ہو

!مدرسہ میں عاشقوں کے جسکی پہلی بسم اللہ ہو
اسکا پہلا ہی سبق یارو فنا فی اللہ ہو 

 کافرِ عشق ہوں میں بندہءاسلام نہیں
بت پرستی کے سوا اور مجھے کام نہیں۔

معرفتِ سورہ فاتحہ

.........................................................................
سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین اجمیری نے سورہ فاتحہ کی برکات کے بارے میں فرمایا کہ حاجات پوری ہونے کے لئے سورہ فاتحہ کثرت سے پڑھما چاہئے،  حضور صلعم نے فرمایا ہے جس کسی کو کوئ مشکل پیش آئے وہ سورہ فاتحہ کو اس طرح پڑھا کرے کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی آخری. میم کو الحمد اللہ رب العالمین سے ملادے یعنی رحیم کی میم کو الحمد کے وصل کے ساتھ پڑھے اور آخر میں ہر تین مرتبہ آمین کہے اللہ پاک اسکی مشکل آسان کردیں گے
حضور صلعم نے ایک دفعہ صحابہ کو بتایا کہ ایک دن جبریل میرے پاس آئے اور کہا یا رسول اللہ خدا فرماتا ہے کہ میں نے ایک سورہ آپ پر ایسی نازل کی ہے کہ اگر توریت میں ہوتی تو بنی اسرائیل سے کوئ یہودی نہ ہوتا اگر زبور میں ہوتی تو کوئ داؤد علیہ السلام کی امت سے ترسا نہ ہوتا اگر انجیل میں ہوتی تو کوئ شخص عیسٰی علیہ السلام کی امت سے ترسا نہ ہوتا- یہ سورہ قرآن مجید میں اسیلئے نازل کی گئ ہے کہ اسکی برکت سے آپکی امت قیامت کے دن خداوند کریم کے سامنے سرخرو ہو- اس سورہ کی یہ عظمت ہے کہ اگر تمام روئے زمین کے دریاؤں کا پانی روشنائ بن جائے اور تمام روئے زمین کے درختوں کے قلم بنائے جائیں تو بھی اس سورہ کی تلاوت کی برکات لکھی نہیں جا سکتی ہیں- اسکے بعد خواجہ صاحب نے مزید فرمایا کہ سورہ فاتحہ تمام امراض کی دوا ہے جو شخص کسی بھی موذی مرض میں مبتلا ہو اگر سورہ فاتحہ کی سنّتوں اور فرضوں کے درمیان بسم اللہ کے ساتھ سورہ فاتحہ 41 بار پڑھ کر اس پر دم کیا جائے تو اللہ پاک اس بیمار کو شفا دے گا- حضور صلعم نے فرمایا کہ الفاتحہ شفاء من کّل داءٍ یعنی سورہ فاتحہ ہر درد کو شفا بخشتی ہے-
 خواجہ نے یہ حکایت بیان کی کہ ایک دفعہ خلیفہ ہارون رشید کسی موذی مرض میں مبتلا ہوگیا اور دوسال پریشان رہا،  خواجہ فضیل بن عیاض کو اسکی درخواست پر رحم آگیا اور آپ نے اپنا دستِ مبارک اسکے جسم پر رکھا اور 41 بار سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اسی وقت خلیفہ کو شفا مل گئ- خواجہ صاحب نے پرہیز بتایا کہ. بدعقیدگی اور بے یقینی سے ہر حال میں گریز لازم ہے- ہر کام میں اخلاص اور عقیدہ میں درستی ہونی چاہئے- ایک دفعہ حضرت مولا علی علیہ السلام نے ایک بیمار پر سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کیا اسے مکمل شفا ہوگئ اسکا ایک واقفکار اسکی عیادت کےلئے آیا اور حیران ہوکر پوچھا کہ تم اتنی جلدی کیسے شفایاب ہوگئے اس شخص نے احوال سنایا مگر وہ واقفکار بدعقیگی اور بےیقینی کا شکار تھا اللہ کی قدعت کہ اسے فوراً یہ بیماری لاحق ہوگئ اور بدعقیدگی کی وجہ سے مرگیا- یہ تھی مولا علی سے بدعقیدگی کا نتیجہ- 
  قرآن پاک کا نچوڑ یا مغز،  محور و منبع سورہ فاتحہ ہے- اللہ پاک نے قرآن حکیم کی تمام سورتوں کا ایک ایک نام مقرر کیا ہے مگر سورہ فاتحہ کے سات نام رکھے ہیں1- فاتحہ الکتاب2- سبع المثانی3- اُّم الکتاب4- اّم القرآن5- سورہ مغفرت6- سورہ رحمت7- سورہء الثانیہ یا سورہء کنز
اس سورہ میں سات حروف نہیں آئے ہیں یعنی ث،  ج،  ز،  ش، ظ،  ف اور خ
معروف واقعہ ہے کہ ایک بار نماز مغربین کے بعد مولا علی کے ذہین اور ذی شعور شاگرد عبداللہ ابن عباس نے مولائے کائنات و قرآن ناطق مولا علی سے سورہ فاتحہ کی تفسیر دریافت کی اور مولا نے پہلی آیت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے تفسیر شروع کی تو فجر کی اذان ہوگئ اور بسم اللہ کی تفسیر نامکمل رہی اس پر مولا علی نے ابن عباس سے فرمایا کہ اگر میں سورہ فاتحہ کی تفسیر بیان کروں تو 70 اونٹوں پر اسکا بار نہ اٹھایا جاسکے گا- ابن عباس اتنا سمجھ لو جو کچھ پورے قرآن میں ہے ہو سب سورہ فاتحہ میں ہے اور جو کچھ سورہ فاتحہ میں ہے وہ سب کچھ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم میں ہے اور جو کچھ بسم اللہ الرحٰمن الرحیم میں ہے وہ سب کچھ بسم اللہ میں اور جو کچھ بسم اللہ میں ہے وہ سب کچھ بائے بسم اللہ میں ہے اور جو کچھ بائے بسم اللہ میں ہے وہ سب کچھ ب میں ہے اور ب کا نقطہ میں ہوں اور پورا کا پورا قرآن سمٹ کر نقطے میں آگیا جو ذاتِ علی ہے..... یہ معرفتِ سورہء فاتحہ ہے جو سِّرِ وحدت ہے اور سوائے عاشقان اور غلامانِ علی جو اولیاء،  صوفیاء،  اصفیاء اور عرفاء ہیں علمائے ظاہر اور علمائے شریعت سورہء فاتحہ کے اسرار و رموز سے واقف نہیں ہوسکتے. کیونکہ وہ طریقت،  معرفت،  حقیقت اور وحدت کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہونا گمراہی تصّور کرتے ہیں.... سیّد المشائخ سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی نے سورہ فاتحہ کی جو معرفت حاصل کرکے اسکے فیوض و برکات و مناقب بیان فرمائے ہیں وہ تشنگانِ معرفت کی خدمت میں پیش ہیں کیونکہ شہنشاہِ معرفت مولا علی اورآلِ محمد کے عرفان کا کوئ بھی احاطہ کرنے سے قاصر ہیں انکے غلاموں کے غلاموں کا عطائ عرفان ہی ہمارے لئے چراغِ راہ ہے بشرطیکہ ہم اھلِ معرفت اور اھلِ تصّوف کو عاشقان و غلامانِ پنجتن پاک و آلِ محمد تسلیم کریں اور شریعت،  طریقت،  حقیقت،  معرفت اور وحدت سے آشنائ کو منزل مقصود گردانتے ہوئے رضائے الٰہی کی جستجو کو نصب العین سمجھکر اپنی دنیا اور آخرت سنوارنے چاہیں 
1-"ث" پہلا حرف ثبور کا ہے جسکے معنی ہلاکت کے ہیں اس سورت کا پڑھنے والا ثبور یعنی ہلاکت سے محفوظ رہے گا
2-" ج" پہلا حف جہنم کا ہے اس سورت کا پڑھنے والا جہنم سے محفوظ رہے گا
3-"ز" پہلا حرف زقوم کا ہے اس سورت کا پڑھنے والازقوم یعنی تھوہر سے کچھ سروکار نہ ہوگا
4-" ش" پہلا حرف شقاوت کا ہے اس سورت کے پڑھنے والا شقاوت سے پاک رہے گا
5-" ظ" پہلا حرف ظلمت کا ہے اس سورت کا پڑھنے والا ظلمت میں نہیں پڑے گا
6-" ف" کا پہلا حرف فراق کا ہے اس سورت کا پڑھنے والا فراق کے مصائب سے محفوظ رہے گا
7-" خ" کا پہلا حرف خواری کا ہے اس سورت کا پڑھنے والا خواری. سے محفوظ رہے گا
خواجہ صاحب نے پھر فرمایا کہ امام ناصر بستی کا قول ہے کہ اس سورت میں سات آیات ہیں اور انسان کے جسم میں بھی سات بڑے اعضاء ہیں اس سورت کے بکثرت پڑھنے والے کے ساتوں اعضاء کو اللہ نارِ جہنم سے بچائے گا- اھلِ سلوک کا قول ہے کہ سورہ فاتحہ میں124 حروف ہیں اور ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء گزرے ہیں گویا کہ ہر حرف کےلئے ایک ہزار پیغمبروں کا ثواب رکھا گیا ہے- جو اسکے پڑھنے. والوں کو ملے گا- پھر فرمایا کہ الحمد میں پانچ حروف ہیں اور اللہ نے پانچ وقت کی نماز فرض کی ہے پس جو بندہ ان پانچ حروف کو پڑھتا ہے اس سے جو نقصان پانچ نمازوں میں واقع ہوگا اللہ تلاوتِ الحمد کی بدولت اسکا نقصان معاف فرمائے گا-  للّہ کے تین حروف ہیں تین کو پانچ میں ملائیں تو آٹھ بنتے ہیں لہٰذا اللہ پاک اسکے پڑھنے والے کےلئے بہشت کے آٹھوں دروازے کھول دینگے کہ جس دروازے سے چاہے بہشت میں داخل ہو-" رّب العالمین "میں دس حروف ہیں،  دس میں آٹھ ملائیں تو اٹّھارہ بنتے ہیں- اللہ پاک نے 18 ہزار عالم پیدا کئے ہیں- اسکا پڑھنے والا 18 ہزار عالم کا ثواب پاتا ہے- " الرحٰمن" میں چھ حروف ہیں- 18 میں6 ملائیں تو24 بنتے ہیں رات دن کے 24 گھنٹے ہیں تو ان حروف کو پڑھنے والا رات دن میں گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے گا گویا شکمِ مادر سے آج پیدا ہواہے-" الرحیم" کے 6 حروف ہیں 24 میں6 ملائیں تو 30 بنتے ہیں- پل صراط کی مسافت 30 ہزار برس کی ہے سورہ فاتحہ کا پڑھنے والا یہ طویل مسافت برق رفتاری سے طے کرجائیگا-" مالک یوم الدین" میں 12 حروف ہیں30 میں12 ملانے سے 42 نبتے ہیں اور سال کے12 مہینے اور ہر ماہ کے 30 دن ہوتے ہیں اسکے پڑھنے سے 12 ماہ کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں-" ایّاک نعبُد میں8 حروف ہیں اگر42 میں8 جمع کئے جائیں تو50 بنتے ہیں- قیامت کا دن 50 ہزار برس کا ہوگا- ان حروف کو پڑھنے والے کے ساتھ قیامت کے دن صدیقوں کا سا معاملہ کیا جائیگا-" و ایّاک نستعین" میں11 حروف ہیں 11 کو50 میں ملائیں تو61 بنتے ہیں جوشخص اسے پڑھے گا اسے زمین اور آسمان کے61 دریاؤں کے قطروں جتنا ثواب ملے گا اور اسی قدر قطرات کے برابر اسکے نامہءاعمال سے بدی دھو ڈالی جائیگی-"اھدنا الصراط المستقیم" میں 19 حروف ہیں اگر 19 کو61 میں جمع کردیں گے تو 80 ہونگے اور شراب پینے کی سزا 80 درّے مقرر ہے- ان حروف کا پڑھنے والا اس سزا سے اس طرح محفوظ رہے گا کہ اللہ اسے ہر حال میں شراب نوشی سے بچائے گا-" صراط الذین انعمتُ علیھم غیر المغضوب علیہم ولاالضّالین" میں 44 حروف ہیں اگر 44 کو 80 میں ملایا جائے تو124 بنتے ہیں اللہ نے ایک لاکھ 24 ہزار انبیآء کے برابر ثواب عطا کیا ہے اللہ اسے بخش دیگا- اسکے بعد خواجہ غریب نواز نے فرمایا

وہ اپنے مرشد خواجہ عثمان ہارونی کے ساتھ سفر پر تھے راہ میں دریائے دجلہ آگیا جہاں کوئ کشتی دستیاب نہیں تھی میری پریشانی دیکھ کر مرشدِ کامل نے فرمایا کہ ایک ساعت کےلئے آنکھیں بند رکھو اور میرا ہاتھ تھام لیا اور پھر فرمایا کہ آنکھیں کھولو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ہم لوگ دریا کے دوسرے کنارے موجود تھے چشم زدن میں- مرشد نے کہا کہ تعجب نہ کرو کیونکہ پانچ مرتبہ صدقِ دل سے سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے ساری مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں اور اللہ پاک کی رحمت شاملِ حال ہوجاتی ہے-..... نظام الحسینی








Let's look within ?

One night Rabia, a noble Sufi saint, was desperately searching for something on the street outside her small hut. When Hasan, returned from work, he saw this and curiously asked, “Rabia, my dear, what are you looking for, here on the street, at this hour?”


Rabia replied, “I lost my needle.”



Hasan joined her in the search, but after searching for a while, he asked, “Can you try and recollect where you might have dropped it?”



Rabia said, “Of course, I remember. I dropped it near the bed, in our hut.”



Hasan mocked her, “Are you insane? You lost it inside the house, then why are we looking for it outside?”

Rabia innocently replied, “There was no oil left in our lamp. It was pitch dark inside the house to search for it. Hence I thought of searching for it outside, since there was enough streetlight here.”


While holding his laugh, Hasan said, “You are really acting weird. If you lost your needle inside the house, how could you even expect to find it outside?”



Rabia simply smiled back at Hasan and Hasan got the beautiful moral behind her silly act. We are all seeking outside, what we have lost inside us. Why, just because it is pitch dark inside? Silly, aren’t we? Light the lamp inside you. Find your lost treasure.



Nothing in this world outside will make us happy, if we are unhappy from inside. Many a times, people who have much less than us are much happier than us. Happiness is self generated. You are not expected to be unrealistically happy when your life may be miserable. When life is harsh on you, stay at peace and wait for happy days peacefully. This too shall pass. When your peace of mind is lost, remember where to look for it, INSIDE.



If an egg is broken by an outside force, LIFE ENDS. If broken by an inside force,  LIFE BEGINS. You will find all the treasures of life, all the secrets of life INSIDE.