Sunday, 5 March 2017

معرفتِ محمّد و آلِ محمّد صلہ اللہ علیہ و آلہ وسلم

مولا علی علیہ السلام نے فرمایا کہ بتحقیق کہ اللہ احد اور واحد ہے- وہ وحدانیت میں یکتا و تنہا ہے پس اس نے ایک کلمہ سے تکلم فرمایا جو سب نور ہی نور تھا پھر اس نے اس نور سے محمد صلعم کو اور مجھکو اور میری ذرّیت کو خلق فرمایا پھر ایک کلمہ میں تکلم فرمایا جو سب روح ہی روح تھا پھر اللہ نے اس روح کو ہمارے ابدان میں ساکن کیا پس ہم روحِ خدا اور اسکے کلمات ہیں اور ہمارے ہی سبب سے ہم کو مخلوق سے پوشیدہ رکھا اور ہم ہمیشہ اسکی رحمت کے سبز سایوں میں رہے- اس وقت نہ آفتاب تھا نہ ماہتاب نہ لیل و نہار اور نہ کوئ آنکھ تھی کہ دیکھ سکے- ہم اس وقت اسکی بندگی اور تسبیح و تقدیس بجا لاتے اور اسکی بزرگی کا اقرار کرتے تھے یہ اس وقت تھا جبکہ کوئ مخلوق خلق نہیں ہوئ تھی اسنے انبیاء سے اس بات پر میثاق لیا کہ ہم پر ایمان لائیں اور ہماری نصرت کریں چنانچہ ارشاد باری ہے کہ جس وقت خدا نے انبیاء سے عہد لیا تھا کہ جب تمہیں کتاب و حکمت عطا ہوگی اور ایک رسول تمہارے پاس والی چیزوں کی تصدیق کرتا ہوا آئے گا تو تم لوگ ضرور اس پر ایمان لانا اور اسکیی مدد کرنا-
 مولا علی نے فرمایا کہ علم تین بالشت ہے پس جو پہلی بالشت تک پہونچا متکبر ہوگیا اور دعوٰی کرنے لگا اور جو دوسری بالشت تک پہونچا متواضع ہوگیا اور اپنے کو ذلیل سمجھنے لگا اور جو تیسری بالشت تک پہونچا فقر اختیار کیا اور فنا ہوگیا اور اسکو اس بات کا علم ہوگیا کہ وہ کچھ نہیں جانتا
اگر مولا کا یہ فرمان عارفانہ نقطہءنظر سے دیکھا جائے تو مولا نے بندوں کو دعوتِ معرفت دی ہے یعنی پہلی بالشت سے مراد علمائے ظاہر ہیں دوسری بالشت سے مراد علمائے باطن اور تیسری بالشت سے مقصود علمائے حقیقت و معرفت ہیں یعنی ف سے فنائیت،  ق سے قربانیءنفس ی سے یاد و ذکر الٰہی اور ر سے رضائے و قربِ الٰہی یعنی مکمل فقیر جو مشائخِ معرفت سے بڑا اور عظیم درجہ ہے-
 مولا علی کے کلماتِ قصار بارہ ہزار سے زائد ہیں جن میں سے چند ارشادات معرفت،  ذکر و فکر،  صلٰوۃ دائمی،  عالم صغیر و کبیر و شہود سے متعلق ہیں مثلاً
جس نے اپنے نفس کی معرفت حاصل کی اس نے اپنے رب کی معرفت حاصل کی
تمام حجابات حدوث امکان میرے اور واجب الوجود کے درمیان سے اٹھا دئے جائیں تو جس علم و یقین اور معرفت کی انتہاء پر میں فائز ہوں اس میں کوئ زیادتی نہ ہوگی یعنی آپکے سامنے کوئ حجاب تھا ہی نہیں-
 ہر نفس ھو ذکرِ خفی میں مشغول ہے وہ زندہ ہے اور ہر وہ نفس جو ذکرِ خفی سے غافل ہے وہ مردہ ہے
تزعم انک  جسمُ صغیر+ دنیک انطری العالمُ الاکبر یعنی تجھ کو گمان ہے کہ تو ایک چھوٹا سا جسم ہے حالانکہ ایک بڑا عالم تجھ میں سمایا ہوا ہے لہٰذا انسان کو اپنے وجود کی معرفت ہونا لازمی ہے جس کا علم روحانی مرشدِ کامل اپنے طالبین کو عطا کرتا ہے-
 مولا علی نے حقیقتِ ذکر و طریقہءذکر" نہج االاسرار" میں منکشف کیا ہے کہ اسکا ذکر کامل طریقہ سے اسطرح کرو کہ تمہارا قلب تمہاری زبان کے موافق ہو اور تمہارا ضمیر تمہارے ظاہر سے مطابق ہو تم اس وقت تک حقیقتِ ذکر کو ادا نہیں کرسکتے جب تک کہ خود کو ذکر میں بھول نہ جاؤ اور اپنے امر میں گم نہ ہوجاؤ- اللہ تعالٰی نے فرمایا ہے کہ اپنے رب کا ذکر تضریح اور پوشیدگی کے ساتھ قلب میں اسکے معنی کا تفکر کرتے ہوئے کرو یہاں تک کہ اسکا ذکر تمام اعضاء پر محیط ہوجائے اور تو اس میں مستغرق ہوجائے بہ تحقیق کہ اسکا ورد وارد ہوتا ہے اور لاالٰہ کے ساتھ نفی کرتا ہے اسکی محبت کو قطعی قرار دیتا اور اللہ کو الّا اللہ کے ذریعے ثابت کرتا ہے اور قلب کو نفسانی خواہشات سے خالی کرکے روحانی مشاہدات کی طرف مشغول کردیتا ہے..... مرتب نظام الحسینی

سورہ بقرہ 256

توجس نے شیطان کاانکارکیااوراللہ پرایمان لایااس نے مضبوط رسی پکڑی جوٹوٹنے والی نہیں اوراللہ سننے والاجاننے والاہے

خدا سے محبّت بزبانِ مولا علی

ایک بار ام المصائب سیّدہ حضرت زینب نے مولا علی سے سوال کی کہ بابا کیا آپ مجھے دوست رکھتے ہیں؟ 
 مولا علی: ہاں میں ضرور دوست رکھتا ہوں
حضرت زینب: کیا آپ میری مادر گرامی اور حسنین کو بھی دوست رکھتے ہیں؟ 
 مولا علی: ہاں انہیں بھی دوست رکھتا ہوں
حضرت زینب: کیا آپ ہمارے نانا رسول اللہ کو بھی دوست رکھتے ہیں؟ 
 مولا علی: بیشک انہیں بھی دوست رکھتا ہوں
حضرت زینب: کیا آپ حق سبحانہ تعالٰی کو بھی دوست رکھتے ہیں؟ 
 مولا علی: بلاشبہ میں خداوند تعالٰی کو بھی دوست رکھتا ہوں
حضرت زینب: بابا یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک دل میں دو محبّتوں کا اجتماع ہو؟ 
 مولا علی: یہ مسئلہ بہت نازک ہے مگر یہ سمجھ لو کہ سوائے خد کے میں جس سے بھی محبت کرتا ہوں اس سے خدا کے واسطے ہی کرتا ہوں........ مرتب نظام الحسینی

فرقہ ناجی بزبان مولا علی

مولا علی نے فرمایا کہ اگر میرے لئے مسند بچھادی جائے تو اہل توریت کیلئے توریت سے اہل انجیل کے لئے انجیل سے اور اہل قرآن کےلئے قرآن سے فیصلے کرونگا- امت یہود 71 فرقوں میں تقسیم ہوگئ تھی جن میں سے70 فرقے جہنم میں گئے اور ایک فرقہ نے نجات پائ،  یہ وہی فرقہ تھا جس نے موسٰی کے وصی یوشع کی متابعت کی تھی- نصارٰی 72 فرقوں میں منقسم ہوگئے تھے جن میں سے71 فرقے ناری اور ایک ناجی تھا،  یہ وہی فرقہ تھا جس نے عیسٰی کے وصی شمعون کی متابعت کی تھی
مولا نے مزید فرمایا کہ امتِ مسلمہ 73 فرقوں میں تقسیم ہوجائیگی جن میں سے 72 فرقے جہنم میں جائیں گے اور فرقہ ناجی ہوگا جو جنّت میں جائیگا،  یہ وہی فرقہ ہوگا جو محمّد صلہ اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصی کی متابعت کریگا- پھر سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ 73 میں 13 فرقے میری محبت و مودت کا دعوٰی کریں گے ان میں سے ایک فرقہ ناجی ہوگا جو اوسط و معتدل راستہ اختیار کرےگا اور بارہ دعویدار فرقے جہنم میں جائیں گے-
 بصرہ مییں ایک شخص نے سوال کیا کہ اہلِ جماعت،  اہلِ فرقہ،  اہلِ بدعت اور اہلِ سنّت کون کون ہیں؟ 
 میرے بعد ان سے متعلق کسی اور سے سوال نہ کرنا- اہلِ جماعت وہ لوگ ہیں جو میری متابعت کرتے ہیں وہ اقلیت میں ہیں اور یہ امرِ خدا اور اسکے رسول کے امر کی جانب سے حق پر ہیں- اہلِ فرقہ وہ ہیں جو میری اور میرے تابعین کی مخالفت کرتے ہیں،  یہ لوگ کثرت سے ہیں- اہلِ سنّت وہ ہیں جو سنّتِ خدا و رسول سے متمسک رہتے ہیں وہ بھی اقلیت میں ہیں مگر اہلِ بدعت وہ لوگ ہیں جو امرِ خدا،  اسکی کتاب اور اسکے رسول کی مخالفت کرتے اور اپنی رائے و خواہش پر عمل کرتے ہیں- یہ لوگ کثرت سے ہیں انکے گروہ اوّل کے لوگ گزر گئے اور مزید گروہ باقی ہیں- یہ اللہ کےلئے ہے کہ انکو گرفت میں لے اور انکا روئے زمین سے صفایا کردے.... مرتب: نظام الحسینی

عرفانی اقوالِ زرّیں

* محبت کی مملکت کے اندر توحید فی التثلیث ہونا چاہئے- حبیب،  حُب اور محبوب تینو ں ایک ہی ہیں
* سماع جو دل سے سنتے ہیں انکے لئے حلال ہے اور جو نفس سے سنتے ہیں انکے لئے حرام ہے
* اگرچہ صوفی کو تاہّلُ کی اجازت ہے مگر اعلٰی روحانی صفات و درجات حاصل کرنے کےلئے مجّرد رہنا انسب ہے- اسے جسم کے ہر عضو کو جنسی لذّت آشنائ سے بچانا چاہئے کیونکہ روحانیت و الوہیت کی منزل قلب ہے اگر وہ دنیاوی بکھیڑوں کی طرف ملتفت رہا تو اسکا اثر باطنی علم و کشف پر ضرور پڑے گا
* فقیر کےلئے نئے کپڑے بھی کفن کی طرح ہیں کیونکہ تقّدس اور دولت کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے
* خدا انکو دوست رکھتا ہے جنکی سخاوت دریا کی سی سخاوت ہو جنکی شفقت آفتاب کی سی شفقت ہو اور جنکی تواضع زمین کی سی تواضع ہو یعنی سب کےلئے یکساں ہو جو تمہارے ساتھ دشمنی کرے اس سے دوستی کا برتاؤ کرو اور کسی کو تکلیف نہ دو
* عشقِ الٰہی اور سوز و گداز، مرشد کے ساتھ محبت کی غیر معمولی اہمیت، انسان دوستی، خدمتِ خلق، دلنوازی و دلداری، غیر مذاہب کے ساتھ رواداری اور شفقت، حکومت اور امراء سے بے تعلّقی اور ان سے دوری راہِ معرفت ہے
* عبادت دو طرح کی ہوتی ہے ایک وہ جسکا فائدہ صرف عبادت کرنے والے کو ہوتا ہے جیسے نماز، روزہ، ذکر، شغل وغیرہ اور دوسری عبادت وہ ہے جسکا فائدہ دوسروں کو پہونچتا ہے جیسے دوسروں کے ساتھ شفقت و مہربانی، آپس میں اتفاق و صلح کرادینا وغیرہ اسکا ثواب بے اندازہ ہے
* محبت انسانی دل و دماغ اور روح میں فطری طور پر موجود رہتی ہے اور روحِ انسانی میں حسن و جاذبیت پیدا کرتی ہے- محبت میں کششِ مخلوقِ خدا کے عشق سے پیدا ہوتی ہے
* ہر عابد محبت سے ہی پرستش کرتا ہے اور محبت ہی نے اسے اپنا بندہ بنا لیا ہے اگر عشق کی کوئ صورت ہوتی تو انسان کی صورت ہوتی- عشق صنم پرستوں کا پیشوا ہے اور زاہدوں اور عابدوں کا قبلہ
* ما و عشقِ یار اگر در قبلہ گر درِ بتکدہ
عاشقانِ دوست را با کفر و ایماں کار نیست
بہ سوئے کعبہ و بتخانہ رہنمائے ہمون است
کہ ہر کس از پئے معبود خود بہ پیکار است
میرا دل ہر روپ سے مناسبت رکھتا ہے- وہ چراگاہ ہے غزالوں کےلئے اور خانقاہ ہے عیسائ راہبوں کےلئے اور مندر ہے بتوں کے لئے اور کعبہ ہے سفرِ حج کرنے والوں کے لئے اور تختی ہے توریت کی اور مصحف ہے قرآن کا- میں مذہبِ عشق کا پیرو ہوں میرا مذہب اور میرا عقیدہ ایک عرفانی اور حقیقی مذہب ہے کیونکہ محبت ہی تمام عقائد کا جوہر ہے اور تمام عبادت و ریاضت کا حاصل ہے یادِ صنم،  دیدِ صنم،  ندائے صنم،  رضائے صنم اور قربِ صنم
* خدا عشق ہے اور عشق ہی خدا ہے
* عقل شریعت ہے اور عقلِ سلیم،  چشمِ بصیرت ، قلبِ صفا اور روںِ مطہر معرفت ہے
* ایک صورت کو پکڑ لو خدا مل جائے گا
* زاہد علم الیقین سے عبادت کرتا ہے جبکہ عارف عین الیقین،  حق الیقین،  غیب الیقین اور ھوالیقین سے معبود کو دیکھ کر عبادت کرتا ہے
* عارف موجود کو دیکھے بغیر سجدہ نہیں کرتا
* ظاہری طہارت وضو و غسل ہے باطنی طہارت صفاتِ رذیلہ سے پاک رہنا ہے
* میں جو سر بسجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا+ تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
* بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق+ عقل ہے محوے تماشائے لبِ بام ابھی..... مرتب: نظام الحسینی

اجرِ رسالت کی ادائیگی اور ہماری غفلت

خاتم المرسلین،  محسنِ انسانیت،  سرورِ کائنات،  شافعِ محشر حضرت محمّد احمد مصطفٰی مرتضٰی مجتبٰی صلہ اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مشہور و معروف حدیثِ مبارک وفات سے قبل ہے" میں میں دو گراں قدر برابر وزن کی چیزیں-- قرآن کتاب اللہ اور اھلِ بیت عترت معلّمان و وارثان قرآن چھوڑے جارہا ہوں جب تک ان دوں سے تمسک رکھوگے،  ان سے عقیدت و محبت رکھوگے اور انکے نمونہءعمل کی پیروی کروگے یعنی شریعت اور طریقت پر عمل کروگے اور دونوں کی اطاعت و اتباع کرکے معرفت حاصل کروگے،  سیرت اھلِ بیت و آلِ محمد کو نمونہءعمل بناؤگے کبھی گمراہ نہیں ہوگے حتٰی کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے ملاقات کروگے یعنی حضور نے قرآن اور اھلِ بیت کے ماننے والوں کو جنّت کی بشارت دےکر انہیں ناجی قرار دیا ہے- یہے روحانی اور نورانی گروہ حضور کو اجرِ رسالت ادا کرکے شریعتِ خداوندی اور سنّت و سیرتِ محمدی پر عمل کررہا ہے-
 سرور کائنات کی معروف حدیث ہے کہ جو شخص امامِ زمانہ کی معرفت حاصل کئ بغیر مرگیا وہ حالتِ کفر و جاہلیت میں مرا،  قرآن پاک کی مقدس آیت ہے کہ روزِ حشر ہر فرد کو کو ہم اسکے امام کے پیچھے طلب کریں گے یعنی جو حشر امام کا ہوگا وہی حشر اسکے مقلدین و پیروکاروں کا ہوگا،  اب فیصلہ امتِ محمدی کو خود اپنے فہم،  ادراک،  فراست،  شعور،  محبت اور معرفت سے کرنا ہے کہ اللہ منتخب و نامزد کردہ اور رسول کے اعلان کردہ 12 خلفاء رسول یعنی اثناءعشری آلِ محمد و ائمّہ طاہرین کو اپنا ہادی،  رہبر،  پیشوا اور مسیحا یعنی اولاالامر منکم بنائیں یا امت کے منتخب کردہ یا خودساختہ خلفاء،  ائمہ،  ہادیوں اور رہبروں کو بناکر اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں- امتِ مسلمہ کو لازم ہے کہ محمد و آلِ محمد،  جن پر درود بھیجے بغیر نماز باطل ہوجاتی ہے،  عبادات جنک محبت کے بغیر ضائع اور بےمعنی ہوجاتی ہیں،  کی سیرت و کردار کو مشعلِ روہ بنائیں اور انکی کبرٰی اور ظاہری غیر حاضری میں شاہِ ولایت،  شہنشاہ الفقراء،  امام الائمہ،  سید الاوصیاء و اصفیاء مولا علی کے عطائ نائبین،  غلامان و عاشقان یعنی اولیاء اللہ،  صادقین،  محسنین،  مخلصین، مصلحین،  صالحین،  متقّیین،  مشاہدین،  شاہدین،  عارفین اور علمائے باطن سے رشد،  ہدایت اور معرفت حاصل کریں- یا ان علماءظاہر اور خودساختہ دین کے تاجروں و سوداگروں سے جو دین میں فتنے فساد،  افتراق و انتشار و خلفشار،  تعصّب،  عداوت،  کدورت،  بغض،  کینہ،  حسد،  نفرت اور ضد کے پرچار میں مصروف ہیں اور فرقوں،  گروہوں،  مسلکوں،  فقہوں مشربوں،  خودساختہ معرفتی و روحانی سلاسل کے نام نہاد پیروں،  مرشدوں اور سوداگروں کا حلیہ بناکر سادہ لوح انسانوں کو ڈھال بناکر گمراہ کرکے نفرت میں مبتلا کرکے انہیں راہِ ہدایت و نجات سے دور کررہے ہیں جبکہ چھ مروّجہ فقہوں-- جعفری،  حنفی،  مالکی،  شافعی،  حنبلی اور وھابی کے پیروکار اپنی ابتدا سے جنگ و جدل،  خونریزی،  قتل و غارتگری،  فتنہ و فساد میں مصروف ہوکر ایک دوسرے کو مشرک،  کافر و منافق ثابت کرنے پر اور جہنّم بھیجنے کے ٹھیکہ دار بنے ہوئے ہیں اور سبھی سنت و سیرت رسول کی پیروی کے دعویدار ہیں. اگر واقعی ایسا تھا تو عالموں اور حکمرانوں کی شہ اور اشارے پر مختلف فقہیں سیاسی حالات کے تحت کیوں وضع کی گئیں جبکہ ایک ہی فقہءمحمدیہ معرضِ وجود میں تھی وہی فقہ امتِ مسلمہ میں رائج رہتی جو بعد میں اپنے ہادیوں سے منسوب کردی گئ محض عداوتِ آلِ محمد میں کیونکہ بارہ ائمّ اطہار فقہءمحمدیہ پر عمل کرنے کی تلقین کرتے ہیں مگر مفاد پرستی اور خود پرستی کے جذبے میں الگ الگ فقہی ناموں کے ذریعہ علمائے نے اپنا الّو سیدھا کیا اور ڈیڑھ اینٹ کی مسجدیں الگ الگ بناکر امتِ محمدے کے شیرازے بکھیر دئے جبکہ راسخ العقیدہ مومن کےلئے کوئ سنت کوئ سیرت کوئ فقہ نہیں سوائے سیرت سنت و فقہء محمدی کے کیونکہ پانچ فقہیں باہمی اختلافی ہیں ہیں جبکہ فقہ جعفریہ ہی دراصل فقہء محمدیہ،  علویہ،  حسنیہ،  حسینیہ یہاں تک کہ مہدیہ ہے بارہ اماموں کی فقہ میں کوئ اختلاف نہیں کیونکہ وہی وارثانِ رسول ہیں-
 حقیقت اور معرفت یہ ہے کہ کائنات میں روزِ ازل سے صرف دو نظریات،  عقئد،  مذاہب،  ادیان،  مسالک اور فرقے عالم وجود میں آئے یعنی حق و باطل،  ظالم و مظلوم،  قاتل و مقتول،  عدل و ظلم،  انسانیت و خباثت و درندگی و حیونیت،  آدمیت و ابلیسیت،  ہابلیت و قابلیت،  ابراہمیت و نمرودیے،  موسٰیویت و فرعونیت،  عیسیویت و علماء خبائث، محمدیت و ابو جہلیت+ ابو لہبیت+ ابوسفیانیت،  علیت و معاویت اور تابوت میں آخری کیل حسینیت و یذیدیت ہیں- اللہ پاک نے طاطل فرقوں اور قوتوں کی سرکوبی اور بیخ کنی کےلئے ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء و مرسلین،  ائمّہ طاہرینِ الٰہیہ اور کروڑوں اولیاء اللہ،  عارفین،  صادقین،  محسنین،  مخلصین ور مصلحین وغیرہ رشد و ہدایت کےلئے آتے رہے اور ابلیسوں اسکے مریدوں،  منافقوں اور باطل طاقتوں ، یزیدیوں اور اسکی نسلوں کا قلع قمع کرتے رہیں گے-
 پنجتن پاک،  اھلِ بیت اطہار،چہاردہ معصومین،  محسن اعظم شہیدِ کربلا  ااور مسیحائے انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام حضراتِ اھلِ تشیع کی اجارہداری اور ملکیت نہیں ہیں وہ ساری کائنات کے تمام مذاہب کے ہادی،  رہبر،  قائد اور مسیحا ہیں- بقول جوش ملیح آبادی
انسان کو بیدار تو ہو لینے دو+ ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین
 ہمارا وجود-- باطنی،  روحانی،  نورانی پنجتن پاک،  بارہ ائمہ اطہار و چہاردہ معصومین یعنی آب،  باد،  خاک،  آتش اور روح وجودی ذات ہیں اور ارادہ،  حیء،  قادر،  سمیع،  بصیر،  علیم و کلیم سات صفاتِ وجود ہیں اور ان بارہ کے علاوہ حضور نورِ خداوندی اور حضرت فاطمہ روحِ خداوندی ہیں،  اجزائے خمسہ کے خمیر سے اللہ نے بقول خود اپنے دونوں ہاتھوں سے وجودِ آدم تیار کیا ہے او ظاہر میں محمد،  علی،  فاطمہ،  حسن و حسین ہیں اور باطن میں ممکن الوجود،  واجب الوجود،  ممتنع الوجود،  عارف الوجود اور وحدت الوجود ہیں- مقامات ناسوت،  ملکوت،  جبروت،  لاھوت و ھاھوت ہیں- ناسوت شریعت و علم الیقین ہے جبکہ طریقت،  حقیقت،  معرفت اور قربت عین الیقین،  حق الیقین،  غیب الیقین اور ھو الیقین ہیں گویا انوارِ الٰہی اور وصلِ الٰہی معراجِ بندگی ہیں غرضکہ ساری معرفتِ الٰہی پانچ ستونوں کی مرہونِ منّت ہے" یادِ صنم،  دیدِ صنم،  ندائے صنم،  رضائے صنم و قربِ صنم"- بغیر باطنی،  روحانی و عرفانی مرشد و رہبرِکامل و ہادیء حقیقی کے علمِ لدّنی و معرفت و عشقِ الٰہی و مودت و محبتِ آلِ محمد کسی کو روحانی بیعت کے نصیب نہیں ہوسکتی جو امامِ زمانہ کی بیعت بدست انکے وکیل یا ظاہری مرشد کے ذریعے ظہور پزیر ہوتی ہے- مولا علی کا نہج الاسرار میں معرفت میں ڈوبا قول ہے" جو نفس ذکرِ خفی میں مشغول ہے بس وہی زندہ ہے اور جو نفس ذکرِ خفی سے غافل ہے مردہ ہے اسلئے ذکر خفی سے کون آگاہ کریگا یہ علماءظاہر؟  اسیلئے اذکار،  سلطان الاذکار،  اشغال کے ذریعے اسرار و رموزِ الٰہیہ سے صرف مرشد حقیقی و کامل و روحان و باطنی و عرفانی متعارف اور روشناس کراسکتا ہے یعنی خفیہ،  پوشیدہ روحانی عبادات ہی ذریعہء نجات اور قربِ الٰہی کا وسیلہ و ذریعہ ہیں- 
ملتِ اسلامیہ سیکڑوں فرقوں میں منقسم ہوکر باہمی  فتنہ و فساد،  خونریزی،  قتل و غارتگری میں مصروف ہے- انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے،  فرقوں کے نام پر کلمہ گو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے ہیں،؟ مسالک،  سلاسل،  فرقوں اور مشربوں میں ریس ہورہی ہے،  سبھی ناجی ہونے کا خواب دیکھ رہے ہیں،  شیعہ،  سنّی،  وھابی،  جماعتی،  تبلیغی،  بریلوی،  دیو بندی،  اھل حدیث،  داؤدی بوہری،  اسماعیلی غرضکہ تمام فرقوں کے نام نہاد علماء جنت کے ٹھیکےدار اور سوداگر بنے ہوئے ہیں جس دن امت مسلمہ ان خود ساختہ مولویوں،  واعظوں، ذکروں،  عالموں اور تاجروں کے پھندوں،  شکنجوں اور گورکھ دھندوں سے نجات حاصل کریگی اور فرقہ بندی و فرقہ پرستی سے باہر نکل کر قرآن اور اھل بیت کی تعلیمات کو مشعلِ راہ اور نمونہءعمل بنائیگی اور اھل بیت و آلِ محمد کی افضلیت،  اہمیت و افادیت کو تسلیم کرکے فکری و عملی مودت و محبت اختیار کرکے خود کو صرف محمدی و آلِ محمدی تصور کریگی تو سفینہءنجات پر سوار ہوکر نہ صرف ملت فروشوں سے نجات حاصل کرلے گی بلکہ راہ حق بھی پاجائے گی- حسینیت زندہ باد اور یزیدیت مردہ باد ہوجائے گی-تمام فرقے باہمی اختلافات و تنازعات کو فراموش کرکے نفرت،  عداوت،  کدورت،  حسد،  بغض،  کینہ،  عناد،  فتنہ و فساد کو طلاق دے کر حسین و حسینیت کو مشعلِ راہ بنائیں گے،  فروعی مسائل اور عبادات کو اپنی ذات تک محدود کرکے شفینہء نجات پر سوار ہوکر اللہ و رسول و آلِ رسول کی رضاجوئ اور خوشنودی کی مئے سے سرشار اور بیخود ہونگے،  بت و صنم پرستی کی جگہ توحید پرستی،  بےایمانی کی جگہ ایمانداری،  خیانت کی جگہ امانت،  باطل پرستی کی جگہ حق پرستی،  بے انصافی کی جگہ انصاف پسندی،  دنیا پرستی،  خود پرستی،  نفس پرستی اور مفاد پرستی کی جگہ خداپرستی، حق پرستی، دین پ. رستی،  نفس پرستی کی جگہ معشوق پرستی،  یزید پرستی کی جگہ حسین پرستی اور فرقہ پرستی کی جگہ محمد پرستی کا دور دورہ ہوگا- آلِ محمد کے آخری محمد امام مہدی علیہ السلام منصبِ محمد پر فائز ہوکر آخری امام کی حیثیت سے ظہور فرمائیں گے،  انسانیت،  حق و انصاف و محبت کا بول بالا ہوگا،  حضرت عیسٰی چرخ چہارم سے اتر کر امام مہدی ع کی بیعت کرکے انکے پیچھے نماز پڑھیں گے،  کانا دجّال قتل ہوگا- حضور کی متفقہ معروف حدیث ہے" ہم 14 معصومین میں پہلا بھی محمد،  اوسط بھی محمد،  آخری بھی محمد غرضکہ ہم سب اپنے اپنے دور کے صفاتی محمد ہونگے- شہرہ آفاق حدیث نبوی ہے کہ میرے اھل بیت کی مثال کشتیء نوح جیسی ہے جو اس پر سوار ہوا اسنے نجات پائ جو کشتی سے دور رہا غرقاب ہوگیا- حضور نے 73 فرقوں میں ناجی فرقے کی نشاندہی فرمادی کہ جو اللہ کے حکم سے مجھے اجرِ رسالت ادا کرینگے جو میرے اقربا یعنی اھل بیت سے مودت  ہے جو بھی میرے اھل. بیت سے مودت اختیار کرکے اجرِ رسالت ادا کرے گا اسی کو نجات ملے گی اور اسی کی عبادات قبول ہونگی
حجتہ الوداع یعنی ظاہری وفات سے قبل حضور کا آخری حج،  سے واپسی پر غدیرِ خم کے میدان میں سوا لاکھ حاجیوں کے معرکتہ الارا اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دین کی تکمیل اور اللہ کی رضاعت کا اعلان کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ اللہ میرا مولا ہے میں مومنین کا مولا ہوں اور جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کے یہ علی مولا ہیں- مولا علی کی ولایت،  امامت،  وصایت اور باطنی،  روحانی،  نورانی اور ظاہری خلافت،  جانشینی اور حاکمیت کی سند دینے کے بعد کہا کہ شب معراج اللہ نے وحیء خفی کے ذریعے علی کی ولایت و مولائیت کا پیغام مجھے براہ راست دیا تھا آج جبریل کے ذریعے وحیء جلی کی ہے کہ پہونچا دیجئے وہ پیغام جو میں نے دیا تھا آج اگر آپ نے نہ پہونچایا تو کوئ کارِ رسالت ہی انجام نہ دیا-
جس اللہ نے ہمیشہ اپنے محبوب طٰہ،  یٰسین،  مزّمل،  مدثر،حبیب وغیرہ سے خطاب کیاتھا مگر ولایتِ علی کے اعلان کے معاملے میں منصبِ رسول سے ترشی کے ساتھ خطاب کیا- اسکا مطلب ہے کہ اگر حضور نے " من کنت مولاہ فھٰذا علی مولاہ" اعلان نہ جیا تو23 سالہ تبلیغ و محنت ضائع کی کیونکہ علی کُلِ ایمان ہیں-  حضور نے صحابہ کرام سے اونٹوں کے کجاوے کا منبر بنواکر اسپر کھٹے ہوکر علی کو دونوں ہاتھوں پر اس قدر بلند کیا کہ رسالت امامت و ولایت کے پیچھے چھپ گئ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ شمع رسالت بجھنے والی ہے اور شمسِ امامت فروزاں ہونے والا ہے- حضور نے جشنِ غدیری پر مہر ثبت کرنے کےلئے حضرت بلال کی جگہ حضرت ابو ذر غفاری کو اذان دینے کا حکم دیا جنہوں نے علی کی تاجپوشی سے بیخود و مست ہوکر نعرہء حیدری بلند کرکے اذان میں دو مرتبہ" اشہد انّا علی ولی  اللہ" کا اضافہ کیا جس پر رسول اللہ نے بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے تمام صحابیوں اور حاجیوں کو حکم دیا کہ فرداً فرداً مولا علی کو مبارکباد دیں جلیل القدر صحابی حضرت عمر بخ بخ کہتے ہوئے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا" یا علی آج سے آپ تمام مومنین و مومناتحتٰی کہ میرے بھی مولا ہوگئے"-
اس تقریبِ جلیلہ کے موقع پر حضور نے فرمایا کہ ولایتِ علی کے اعلان کے بعد جبریل پھر آیت لائے کہ آج دینِ اسلام مکمل ہوگیا اور اللہ دین سے راضی ہوگیا اور تمام نعمتیں تمام کردیں- اسی موقع پر آیت نازل ہوئ کہ اللہ چاہتا ہے کہ رسالت کی کاوشوںکےلیئے.
مسلسل... اجر رسالت.... 5
امتِ مسلمہ سےاجریا صلہ طلب کیجئے جو جو اقرباء یعنی اھل بیت سے مودت و محبت ہے" قال اللہ لا اسلیکم علیہ اجراًالا مودتہ فی القرباء... شورٰی،  آیت23 پ25.- فرمادیجئے کہ میں تم سے اجرِ رسالت کے طور پر کچھ  طلب نہیں کرتاسوائے میرے اھلِ بیت سے مودت و محبت کے-- آج امت ِمحمدی فیصلہ کرے کہ وہ محبوبِ خداکو اجر رسالت ادا کررہی ہے یا رسمی عبادات کے ذریعے رضائے الٰہی وخوشنودیء رسول کی طلبگار و متلاشی ہے کیونکہ درزی کو اجرت دئے بغیر جس کپڑے پر کوئ عبادت قبول نہیں تو اپنے محبوب کے اجر رسالت کے بغیراللہ کس طرح امت کی عبادات قبول کرےگا بقول چراغِ بنگالہ صوفی شاعر سید مسکین علی شاہ چشتی
زاہد تیری نماز کو میرا سلام ہے+ بے حُبِِ اھلِ بیت عبادت حرام ہے
مقامِ حیرت اور عبرت ہے کہ 1300 سال سے لاکھوں اعلام،  آیت اللہ،  علماء،  مجتہدین،  روحانی سلاسل کے لاکھوں اولیاء،  صوفیاء،  صلحاء اور عرفاء کی موجودگی کے باوجود قائم محمد امام مہدیعلیہ السلام کو آجتک جنگ بدر کی تعداد کے313 جانثار سپہ سالار اور ناصر نہیں مل سکے کہ حضرت ظہور فرماکر نظامِ عدل قائم کرکے،  حسین کےقتل کا انتقام لے کر،  فرقوں کو نیست و نابود کرکے صرف حسینیت کے سفینہءنجات پر انسانیت کو سوار کراکے اپنے نصب العین کو شرمندہءتعبیر کریں گے اور ہر انسان کو عملی حسینی بنائیں گے- واضح رہے کہ رسولِ اللہ کی ظاہری وفات کے بعد جو سیاسی فضا پیدا کردی گئ تھی،  غدیری اعلانِ ولایت،  امامت،  وصایت اور خلافت کو بالائے طاق رکھ کر ثقیفائ خلافت بذریعہ شورٰی و اجتماع قائم کردیگئ تھی ایسے مفاد پرستانہ ماحول اور سیاسی فضا میں اھل بیت کےلئے گوشہ نشینی و تنہائ کے سوا کوئ چارہ نہ تھا کیونکہ حضور نے مولا علی کو صبر،  ضبط و تحمل کی تلقین کی تھی- رسول کے احکامات،  تعلیمات،  فرمودات،  سنّت و سیرت سے انحراف کیا گیا،  فراموش و نظر انداز کردی گئیں جس کی وجہ سے دنیا آلِ محمد کے اصلی خدو خال سے بیگانہ اور انکے علوم،  فضائل،  مناقب و کمالات سے ناآشنا ہوکر رہ گئ تھی- انہیں نظروں سے گرانا،  اقتدار سے الگ رکھنا اور ان پر ظلم و ستم کرنا،  انکے مقابلے میں ظاہری اور دنیاوی حکمرانوں کو مقرر کرنا،  شریعت و سنتِ محمدی میں ترمیم و اضافہ و بدعت کو اسلام کی بہت بڑی خدمت تصّور کیا گیا- البتہ ایک گروہ ایسا تھا جو آپکیچوتھی خلافت کو نصی سمجھتے ہوئے دینی فریضے کی حیثیت سے مولا علی کی بیعت کر رہا تھا ورنہ اکثریت تو انہیں دیگر سابقہخلفاء کیطرح فرمانروا اور بلحاظ فضیلت چوتھے درجے پر یا خلفاءثلاثہ کے بعد عام صحابہ کی سطح پر سمجھتی تھی اور بیعت سیاسی حالات کی مجبوری تھی- وہ لوگ آپکی خلافت کو منجانب اللہ اور امام برائےاطاعت نہ سمجھ رہے ہوں بلکہ جمہوری سربراہ کی حیثیت سے بیعت کی تھی اسی لئے  وہ لوگ آسانی سےبیعت شکنی بھی کررہے تھے،  جنگ و جدال و بغاوت بھی کررہے تھے اور من مانی کرکے شیعیت کے دعوے کرکے مولا علی کے احکامات کی حکم عدولی اور نافرمانی بھی کررہے تھے-
 مولا علی نے حضور کی تجہیز و تدفین سے فرصت پائ تو گمنام ثقیفہ کے مطلع میں غدیری آفتاب کو سازش کرکے ضیاپاشی سے محروم کرنے اور انہیں مطیع بنانے،  بیعت کرنے کےلئے ناقابل فراموش اور حیاسوز مظالم ڈھائے گئے مولا فرماتے رہے کہ میں ہی لوگوں کی امامت،  خلافت و قیادت کےلئے سب سے زیادہ مقّدم و اولٰی ہوں اور تم لوگ حق کے قائم کرنے میں میرے ناصر و مددگار بنو مگر حق پرستی دم توڑ چکی تھی- مشہور و معروف حدیثِ نبوی ہےا" علی حق کے ساتھ حق علی کے ساتھ اور حق علی کے پیچھے چلتا ہے"-
 یہ حدیث بھی معروف ہے" اے علی کوئ مومن تم سے دشمنی نہیں کرے گا اور کوئ منافق تم سے محبت نہیں کریگا"- مولا علی فرماتے ہیِں کہ ہم اھلِ بیت نبّوت کا شجرہ،  رسالت کی منزل،  ملائکہ کی فرودگاہ،  علم کا معدن اور حکمت کا سرچشمہ ہیں- ہماری نصرت کرنے والا اور ہم سے محبت کرنے والا رحمت کےلئے چشم براہ ہے اور ہم سے دشمنی و عناد رکھنے والے کو قہرِ الٰہی کا منتظر رہنا چاہئیے- حضور نے سفینہءنجات اھل بیت کی شان میں ہزاروں احادیث بیان فرمائ ہیِ جنہیں زرخریدوں اور دشمنوں نے چھپانے کی کوشش ہر زمانے میں کی ہیں غرضکہ اھلبیت تاریکیوں کے چراغ،  امت کےلئے سامانِ حفاظت و مسیحا،  دین کے روشن مینار اور فضل و کماک کا بلند معیار ہیں نیز پنجتن پاک جنّت کے مالک،  آقا،  سیّد و مختار ہیں.... نظام الحسینی

اسلام کی بنیاد کے دو ناقابل فراموش ستون

امت مسلمہ کی کتنی بڑی بے وفائی،  بے اجتنابی،  بے حسی اور بے غیرتی ہے کہ اسلام کے سب سے بڑے محسن اور بنی اسماعیل کے نزیر،  مبشر اور صالح مومن،  مخلص،  صادق اور ایمان پناہ حضرت عمران بن عبد المطلب المعروف حضرت ابو طالب کو بغض علی میں کافر قرار دیدیا اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن بنی امیہ کے قبیح اور لعنتی منافق ابو سفیان کو مسلمان کہکر رضی اللہ عنہ کا خطاب ریدیا جس نے حضور صلعم سے نفرت،  عداوت،  حسد، بغض و دشمنی کی انتہا کردی تھی جس نے اپنی جگر خوارہ بد بخت اور بد طینت اوباش بیوی کے ساتھ فتح مکہ کے بعد ظاہراً اور منافقاً حضور کے چچا حضرت عباس کے مشورے پر جان بچانے کی خاطر اسلام قبول کرلیا یعنی ظالموں  اور مشرکوں کا سپہ سالار، ملوکیت اور بادشاہت کے بانی،  مولا علی کی خلافت الیہیہ کے باغی معاویہ  کا باپ اور فاسق،  فاجر،  عیاش،خبیث اور منافق اعظم یزید کا دادا امت مسلمہ کی نظر میں مسلمان رہا اور یتیم و یسیر کمسن اور مظلوم محمد صلعم کی پرورش،  کفالت ، نگہداشت،  پناہ دینے والے ابوطالب کو کافر گردانا جو مولود کعبہ علی کے والد اور محسن انسانیت سید الشہداء کے دادا ہیں،  مورخین کی تحقیق کے مطابق ابو طالب نے آخری سانس تک کلمہ نہیں پڑھا،  ان احمقوں کو یہ احساس نہیں کہ کلمہ کافر و مشرک و منافق پڑھتے ہیں مومن،  صالح،  مبشر،  نزیر اور حقانیت رسول کے علمبردار نہیں- قرآن میں اللہ نے اپنی نسبت ابوطالب قرار دیکر کہا کہ اے میرے حبیب آپ یتیم تھے میں نے آپکو پناہ دی،  کیا اللہ نے آسمان سے اتر کر بشری جسمانیت کے ساتھ پناہ دی،  کفالت و نگہداشت کی،  مشرکین مکہ کے شرو فتنے سے آخری سانس تک محفوظ رکھا،  محمد کی زندگی کی ضمانت کےلیے اپنے چاروں صاحبزادوں-- طالب،جعفر طیار،  عقیل اور علی کے بستروں کو بدل بدل کر محمد کو راتوں کو سلاتے رہے تاکہ محمد دشمنوں سے محفوظ رہیں اور انکا اپنا کوئی بیتا شہید ہوجائے،  محمد کی حیات کا پاسباں،  محمد کا نکاح خواں،  نکاح کے خطبے کو بسم اللہ الرحمان الرحیم سے آغاز کرنے والا اگر کافر ہے تو حسینیوں کو یہ کافر مبارک اور محمد کی شمع رسالت بجھا نے کے درپے اور بنی ہاشم کے سب سے بڑے دشمن اور منافق ابوسفیان کا مسلمان ہونا امت مسلمہ کو مبارک- احسان فراموشی مسلمان کو زیب نہیں ریتی- حق و باطل کو سلسلئے آدم و ابلیس سے ہوتے ہوئے حسین بن علی بن ابو طالب پر منتہی ہوئے جبکہ باطل سلسلہ یزید بن معاویہ بن ابو سفیان پر ختم نہیں ہوا بلکہ مشرکوں،  کافروں،  منافقوں اور گمراہوں کی صورت میں یزیدیت آج بھی حسینیت سے بر سر پیکار ہے

حضرت ابو طالب علیہ السلام آج امت مسلمہ کی نظر میں مسلمان ہوتے اگر وہ مولا علی کے والد بزرگوار نہ ہوتے-- یہ بات اس سے ثابت ہے کہ جب کربلا میں امام حسین نے لعین عمر سعد سے سوال کیا تھا کہ مجھے کس جرم میں قتل کے درپے ہو- کیا میں نے حلال محمد کو حرام اور حرام محمد کو حلال کیا ہے تو ایک ہی جواب ملا کچھ نہیں بس آپکے والد کے بغض میں یہ ساری معرکہ آرائی یزید کی طرف سے ہے- مسلمانوں کی بے بصیرتی تعجب خیز ہے کہ جسکے خطبئہ نکاح کا بسم اللہ الرحمان الرحیم اللہ کو اتنا راس کہ اسنے  اس جملے کو قرآن کی آیت بنادیا اور جنکی زوجہ محترمہ فاطمہ بنت اسد نے ولادت ظاہری نو مولود کعبہ کے موقع پر اللہ کی دعوت پر غلاف کعبہ تھام کر دعا کہ اے میرے اللہ میں تجھ پر اور تیرے انبیاء،  فرشتوں اور قیامت پر ایمان رکھتی ہوں میری مشکل کو آسان فرما اور کعبے کی دیوار شگافتہ ہوکر مومنہ کی عقیدت میں متبسم ہوگئی اور اسی شکستہ دیوار سے کعبے میں داخل ہوگئیں،اگرابوطالب نعوذ باللہ کافر تھے تو سید المرسلین و فخر کائنات اور حبیبِ خدا کا نکاح کافر پڑھے وہ بھی توحید کی حمد کے ساتھ،  امت مسلمہ کو میرا ناچیز مشورہ ہے کہ اب سے اپنی اولادوں کا نکاح پنڈت روی شنکر وغیرہ سے پڈھوائیں کیونکہ سنتِ رسول اور شریعتِ اسلامیہ یہی ہے اور حضور کے بعد جتنے مسلمانوں کے،  مومنین کے نہیں،  نکاح ہوئے انکا حشر کیا ہوگا- جانے حضور کے تحفظ اور اسلام کی ترقی کےلیے اپنی ساری دولت نچھاور کرکے بھوکے مسلمانوں کی بھوک مٹائی وہ کافر کیونکہ اسنے امیتابھ بچن کی طرح بآواز بلند ظاہری اور نمائشی کلمہ بظاہر مسلم مورخوں کے سامنے نہیں پڑھا تھا یہ الگ مسلہ ہے کہ جب نماز کا حکم بھی نہیں آیا تھا علی اور جعفر حضور کی امامت میں نمز ادا کرتے تھے اور ابوطالب نگہبانی فرماتے تھے،  ابوطالب نہ صرف مومن،  محسن،  مخلص اور ولی اللہ تھے بلکہ ابو المعصومین تھے یعنی علی سے مہدی تک بارہ ائمہ طاہرین ک جد امجد 

اسلام کی پہلی تبلیغی دعوت کا انتظام حضور نے بحکم الہی حضرت ابوطالب کے گھر پر کیا اور سارے اقرباء کو دعوت اسلام کےلئے جمع کیا مگر تین روز دعوتیں اڈاکر بغیر حضور کی بات سنے سب فرار ہوگئے غالبا بعد میں جنگوں میں یہی حکمت عملی اپنائی جاتی رہی،  چوتھے روز حضرت ابوطالب تلوار لیکر دروازے پر بیتھ گئے اور حضور سے کہا بھتیجے اپنا پیغام بیان کرو اور دعوت ذوالعشیرہ میں حضور نے فرمایا کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے اور میں اسکا رسول ہوں،  سوائے دس سال کے علی کے کسی نے لبیک کہا اور نہ شہادت دی- تعجب ہے کہ لا الہ الا اللہ--- محمد الرسول اللہ کلمہ سارے مسلمان پڑھتے ہیں جو علی کی شہادت اور قرآنی آیات ہیں جبکہ قرآن نازل بھی نہیں ہواتھا مگر جو کلمہ اشہد انا علی ولی اللہ حضور نے پڑھا وہ سوائے شیعوں کے کوئی نہیں پڑھتا جب کوئی ایمان نہیں لایا تو حضور نے احتمام حجت کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ آج سے علی میرا وصی،  خلیفہ،  جانشیں اور وزیر ہے- سارے اقربا ابوطالب پر طنز کرتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ پہلے بھتیجے کی اطاعت کرتے تھے آج سے بیٹے کی بھی اطاعت کیجئے- ابو طالب نے آخری سانس تک حضور کی پشت پناہی کی اور علی نے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے حضور کی آخری سانس تک نصرت کی اور جبتک ابوطالب بحیات رہے حضور انکی پناہ میں رہے- حضور نے انکی نماز جنازہ اشکبار آنکھوں سے پڑھائی اور مکہ کے جنت المعالی قبرستا میں تدفین ہوئی-
اسلام کا دوسرا ناقابل ستون ملکہ عرب اور حضور کی زوجئہ اوّل اور واحد دختر سیدہ نساء العالمین اور سیدہ نساء الجنت حضرت فاطمہ زہرا کی والدہ گرامی ہیں- چونکہ وہ حضرت فاطمہ کی والدہ تھیں اسلئے امت مسلمہ نے حضرت خدیجہ کو وہ درجہ اور فضیلت نہیں دی جسکی وہ مستحق تھیں اور مورخین نے انکا رتبہ گھٹانے کےلیے کئی غلط بیانیاں کیں اور حقائق کی پردہ پوشی کی- یہ قطعی غلط روایت ہے کہ وہ 40 سالہ مالدار بیوہ تھیں اور تین مزید بیٹیوں-- زینب،  رقیہ اور کلثوم کی بھی ماں تھیں جبکہ وہ کنواری اور حضور کی ہم عمر 24 یا 25 سال کی تھیں کیونکہ انکے چچا دین ابراہیم کے مومن ورقہ بن نوفل نے بشارت دی تھی کہ پیغمبر اسلام سے انکا نکاح ہوگا جن سے سیدہ فاطمہ زہرا عالم وجود میں آئینگی اور نسلِ محمدی قیامت تک اولاد فاطمہ سے چلے گی اسی انتظار میں وہ کنواری رھکر حضور کی منتظر تھیں با الفرض مان لیا جائے کہ وہ 40 سالہ باشعور،  عاقل اور فاضل تجارت کی ماہر ملکئہ عرب تھیں تو شرعی مسائل جہاندیدہ اور تجربہ کار زوجہ خدیجہ سے کیوں نہ پوچھے گئے اور صحیح مسلم و بخاری میں محض چند احادیث ان سے منسوب ہیں جبکہ نابالغ زوجہ سے ہزاروں احادیث لی گئیں،  تاریخ میں درج ہے کہ حضور اکثر و بیشتر خدیجہ کی ایثار، قربانی،  خلوص،  محبت

 جانفشانی،  غمگساری اور اسلام کے فروغ کی خاطر تمام دولت کی حوالگی اور جودو سخا کو یاد کرکے آنسو بہاتے تو ایک زوجہ طنز کرتی کہ کب تک اس بوڑھیا کو یاد کرکے روتے رہینگے- یہ امت مسلمہ کی صدیقہ مادر اور حضور کی جواں سال زوجہ نے دلیل پیش کردی کہ رونا سنت نبوی ہے- اب رہی بات حضرت خدیجہ سے حضور کی چار بیٹیوں کی تو وہ تینوں خدیجہ کی بیوہ بڑی بہن کی بیٹیاں تھیں جنکی رحلت کے بعد دولت سے مالا مال خدیجہ نے اپنی بیٹیوں کی مانند زینب،  رقیہ اور کلثوم کی پرورش و پرداخت کی اور زینب کی عمر حضور اور خدیجہ کے نکاح کے وقت سن بلوغت کی تھی- خدیجہ نے حضور سے ساتھ رکھنے،پرورش جاری دکھنے کی خواہش کی اور حضور نے منہہ بولی بیٹیوں کادرجہ دیا اور تینوں کی شادیاں بھی مشرکین مکہ سے ہوئیں جبکہ انبیاء اپنی بیٹیاں کافروں سے نہیں بیاہتے البتہ کافروں کی بیٹیوں سے انبیاء کلمہ پڑھاکر نکاح کیا کرتے تھے-
حضرت خدیجہ عرب کی سب سے مالدار اور ثروت مند خاتون تھیں،  انکے خزانوں کی کنجیاں اونٹوں پر رخصتی کے وقت حضور کے مکان میں دولہن کے ساتھ لائی گئیں- دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ مورخین نے حضور اور خدیجہ کے نکاح کا ذکر تفصیل سے کیا ہے کہ خدیجہ نے تجارت میں حضور کی صداقت اور دیانت سے متاثر ہوکر حضرت ابوطالب سے حضور کے پاس از خود نکاح کا پیغام بھیجا کیونکہ انہیں حضور کی عزت نفس کا احساس تھا کہ کل مورخ لکھ دیگا کہ حضور نے دولت کی لالچ میں خدیجہ جیسی مالدار خاتون سے شادی کی- ابوطالب نے نکاح پڑھایا دولہا دلہن کے سامنے خدیجہ کے خزانوں کا انبار لگا ہواتھا- دین مہر حضور کی طرف سے ابو طالب نے خدیجہ کے شایانِ شان ادا کیا جبکہ حضور کی دیگر شادیوں کے اہتمام،  نکاح،  قاضی،  مہر، ولیمہ وغیرہ کا تاریخ میں ذکر نہیں ملتا بس ازواج کا تذکرہ اور تعداد ملتی ہے،  حضور کے ولیمہ کا انتظام بھی ابوطالب نے پرشکوہ انداز میں کیاتھا-

جبتک حضرت خدیجہ بحیات رہیں حضور کی دلگیری،  دلجوئی،  غم گساری،  غم خواری،  دستگیری فرماتی رہیں اور حضور کی رسالت میں ممد و معاون اور شریک کار رسالت رہیں جسکی نظیر نہیں ملتی- ایک روز حضور گھر میں داخل ہوئے تو بہت اداس،  غمگین،  پژمردہ،  خستہ حال اور شکستہ دل تھے،  خدیجہ تڑپ گئیں اور اداسی کا سبب پوچھا- حضور نے فرمایا کہ ابو جہل،  ابو لہب اور ابو سفیان نے مسلمانوں کو دھمکی دی ہے کہ قرض واپس کرو یا دین محمدی چھوڈ کر پرانے دین پر واپس آجاؤ،  خدیجہ نے بچی کچھی دولت سے سارے مسلمانوں کا قرض چکادیا، انہوں نے بہو بنکر جس طرح ابو طالب اور فاطمہ بنت اسد کی خدمت کی اسکی مثال نہیں ملتی- حضرت خدیجہ کا درجہ ازواج میں اسلئے سب سے بلند اور عظیم تھا کہ وہ سیدہ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا کی مادر گرامی تھیں بلکہ نہ صرف ام المومنین ام المعصومین بھی تھیں جبکہ دیگر ازواج ام المسلمین تھیں یعنی مسلمانوں کی ماں تھیں جبکہ حضرت خدیجہ کو شرف ہے کہ اللہ کے منتخب انبیاء سے افضل و برتر چہاردہ معصومین میں اوّل یعنی حضور کی حد درجہ تعظیم و تکریم کرنے والی چہیتی رفیقئہ حیات تھیں اور سادات کی نسل حضرت فاطمہ سے چلنے کی وجہ سے حسن سے مہدی تک گیارہ معصوم کی ماں اور معصوم مولا علی کی بےنظیر ساس تھیں- جس طرح حضرت ابو طالب ابو المعصومین تھے اسی طرح ھی حضرت خدیجتہ الکبری ام المعصومین تھیں- کائنات میں قیامت تک یہ رتبے اور درجے کسی کو نصیب نہیں ہونگے مگر امت مسلمہ نے دونوں عظیم اسلام کی روح رواں اور محسنین کی عظمتوں پر نہ صرف پردہ ڈالا بلکہ حضرت ابو طالب کو کافر اور حضرت خدیجہ کو مُعمر بیوہ قرار دیکر درجہ اور وقار گھٹانے اور نابالغ زوجہ کا درجہ بڑھانے کی متعلقین اور زرخرید اور متعصب مورخین نے سازش کی تھی اور امت مسلمہ کی کم فہمی،  لاعلمی،  بے بصیرتی اور بے شعوری کی وجہ سے اسلام کے دونوں معماروں کو فراموش کردیا گیا،  دونوں کے روضئہ مطہر جنت المعالی میں تھے مگر لعین آل سعود نے جنت البقیع کی طرح جنت المعالی کے قبرستان کو بلڈوزر چلواکر حضرت ابوطالب اور حضرت خدیجہ الکبریٰ کی قبور مطہرہ کو منہدم کردیا جہاں ہرسال حضور صحابہ سمیت فاتحہ پڑھتے تھے اسطرح برسی منانا حضور کی سنت ہے----- نظام الحسینی