Sunday, 5 March 2017

قصائدِ علی بزبانِ رسول

رسول خدا کے ارشادات:---
* میں اور علی ایک نورِ واحد سے ہیں
قرآن کی آیت ہے کہ پس تم اللہ،  اسکے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا
* میں شہرِ علم ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے پس جس شخص کو علم حاصل کرنا ہو تو دروازہ یعنی علی کے پاس آئے
* میں شہرِ حکمت ہوں اور علی اسکا دروازہ ہے
* میں میزانِ علم ہوں اور علی اسکے پلّے ہیں
* یا علی اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد مومن کی شناخت نہیں ہوسکتی تھی
* علی کی محبت ایمان ہے
* علی کے چہرے پر نظر کرنا عبادت ہے... مردی از حضرت عائشہ
* علی کا ذکر عبادت ہے
* جس نے علی کی تنقیص کی اس نے میری تنقیص کی
* جس نے علی سے حسد کیا اس نے مجھ سے حسد کیا اور جس نے مجھ سے حسد کیا وہ کافر ہوگیا
* جس نے علی کو چھوڑا اس نے مجھ کو چھوڑا اور جس نے مجھ کو چھوڑا اس نے خدا کو چھوڑا
* جس نے علی کو ایذا دی اس نے مجھ کو ایذا دی اور جس نے مجھے ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی
* جس نے علی کو دشنام دی اس نے مجھ کو دشنام دی
* جس نے علی سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی جس نے علی کو غضبناک کیا اس نے مجھ کو غضبناک کیا اور جس نے مجھے غضبناک کیا اس نے خدائے عز و جل کو غضبناک کیا
* یا علی جس نے تمہاری اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے تمہاری نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی
* مومن کبھی علی سے بغض نہیں کرے گا اور منافق کبھی علی سے محبت نہیں کرے گا
* علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ.. خداوندا حق کو اسی طرف گردش دے جدھر علی پھریں
* ہمارا اوّل بھی محمد ہے اوسط بھی محمد او آخر بھی محمد اور ہم سب کے سب محمد ہیں
*  بہ تحقیق کہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں اور علی میرے بعد تمام مومنین کا ولی ہوگا
* جنگِ خیبر میں ارشادِ رسول ہے کہ خدا کی قسم کل میں یہ علم اس شخص کو دونگا جو اللہ اور رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ و رسول اسکو دوست رکھتے ہیں وہ بڑھ بڑھ کر حملے کرنے والا ہوگا اور فرار ہونے والوں میں نہیں ہوگا اور وہ اسکو سختی سے فتح کرے گا
* جنگ خندق میں جب حضرت علی نے عمر بن عبدود کو قتل کردیا تو حضور نے ارشاد فرمایا کہ خندق کے روز علی کی ایک ضربت میری امّت کے اعمال سے جو وہ قیامت تک بجا لائے گی،  افضل ہے.... شاعر مشرق علامہ اقبال نے اسی تناظر میں کہا ہے
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب ید الٰلٰہی ایک سجدہءشبّیری
* یا علی تمہاری ایک ضربت کونین کی عبادت پر بھاری ہے
- کُلِ ایمان کُلِ کفر کے مقابلے پر جارہا ہے
* یا علی تم جنت و جہنّم کے تقسیم کرنے والے ہو
* علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں میری اس امانتِ رسالت کو سوائے میرے اور علی کے کوئ ادا نہیں کرسکتا
* یاعلی تم میرا وجود ہو میرا گوشت ہو میری روح ہو میرا نفس ہو میرا قلب ہو میرا نور ہو میری فکر ہو
*  یا علی تمہاری مثال لوگوں میں ایسی ہے جیسے قرآن میں سورہ اخلاص قل ھو اللہ احد
ایک شاعر غالباً خواجہ معین الدین چشتی نے کیا خوب کہا ہے
یا علی ذاتت ثبوت قل ھو اللہ احد+ نام تو نقش نگین امر اللہ الصمد
لم یلد از ما در گیتی ولم یولد چو تو+ لم یکن بعدِ از نبی مثلت لہ کفواً احد
اہل سنّت کے معتبر اور شیدائے علی رہبر شافعی نے مولا علی کی منزلت کی بہت تحقیق کی اور بالآخر لکھا کہ
لو انّ المرتضٰی ابدی معلّہ+ لصار الناس طرّا سجداً لہ
کفٰی نی فضل مولانا علی+ وقوع الّشک فیہ انہہ اللہ
ومات الشافعی و لیس یدری+ علی ربّہہ ام ربّہہ اللہ
ترجمہ:-- اگر علی مرتضٰی اپنا مقام ظاہر کردیتے تو تمام لوگ انکو سجدہ کرنے جمع ہوجاتے- ہمارے مولا علی کی فضیلت میں یہی کافی ہے کہ سک واقع ہوتا ہے کہ یہ اللہ ہیں- شافعی مرگیا مگر سمجھ نہ سکا کہ علی اسکے رب ہیں یا اللہ اسکا رب ہے- ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
 ھا علی بشر کیف بشر+ ربہہ فیہ تجّلی و ظھر
میرا اپنا ذاتی عقیدہ ہے اگر علی کی محبت و عشق رافضیت ہے تو اللہ،  رسول،  جبریل کے علاوہ شافعی بھی رافضی ہیں کیونکہ یہ سبھی عاشقانِ علی ہیں
* اگر لوگ علی بن ابی طالب کی محبت پر جمع ہوجاتے تو اللہ دوزخ کو پیدا ہی نہ کرتا
* علی کو دشنام نہ دو کہ وہ ذاتِ خدا میں گھل مل گئے ہیں یعنی فنا فی اللہ سے بقا باللہ ہوگئے ہیں.
یا علی نہیں پہچانا کسی نے سوائے میرے اور تمہارے،  نہیں پہچانا کسی نے مجھ کو سوائے اللہ کے اور تمہارے،  اور نہیں پہچانا کسی نے تم کو سوائے اللہ کے اور میرے- پھر یہ لوگ کس طرح کہتے ہیں کہ تمہاری معرفت حاصل کرلی
ہر نبی کا ایک رازدار ہوتا ہے یا علی تم میرے رازدار ہو
* یا علی!  اگر مجھے نہ ہوتا کہ میری امّت تمہارے لئے وہی کہنے لگے گی جو نصارٰی عیسٰی کےلئے یعنی اللہ کا بیٹا کہتے ہیں تو میں تمہارے چند فضائل بیان کرتا پھر لوگ تمہارے قدموں کے نیچے کی مٹّی لے کر اپنے بیماروں کےلئے شفا حاصل کرتے
نوٹ:---- مولا علی کی منزلت،  افضلیت،  اہمیت،  افادیت اور تسلیمیت کا بیان بلاشبہ سوائے اللہ و رسول کے کوئ بھی عارف یا عاشق نہیں کرسکتا اور بنظر شریعت،  طریقت،  حقیقت،  معرفت اور سِّرِ وحدت رسول اللہ کے بعد روزِ اّول سے خلقتِ آدم سے قبل کے بعد نور علی روح علی نفسِ علی اور ظاہری،  باطنی،  نورانی،  روحانی اور عرفانی علی کی ذات سے زیادہ اعلٰی اور افضل ترین ذات مولائے کائنات علی بن ابیطالب کے علاوہ کسی کی نہیں بسکی دلیل خود اللہ اور رسول کا فرمان ہے اب یہ الگ بات ہے کہ اللہ و رسول کا کلمہ پڑھ کر خود کو مسلمان کہلانے کے دعویدار ہیں مگر مذکورہ بالا احادیث پر انکا نہ عقیدہ، نہ ایمان نہ عمل وفاتِ رسول کے بعد رہا اور اس طرح ولایت،  امامت،  وصایت اور ظاہری دنیاوی خلافت کے حقدار مولا علی کی حق تلفی کی گئ اور احکام اور اعلانِ اللہ و رسول امّت نے فراموش اور نظر انداز کردئے گئے اور نعوذ باللہ خلافت ظاہری میں مولا علی کو خلیفہء بلا فصل ماننے کے بجائے چوتھا خلیفہ بلحاظ فضیلت مانتے ہیں یعنی رسول کے خلیفہء اوّل سب سے افضل اسکے بعد خلیفہ دوم اسکے بعد خلیفہ سوم اور چوتھے مقام پر علی افضل جبکہ اسکے برعکس اللہ و رسول سب سے افضل مولا علی کو جانتے اور مانتے ہیں- مجھے نہ کوئ رائے زنی،  تبصرہ یا تاثر نہیں اظہار نہیں کرنا ہے،بس اتنا ہی عرض کرنا ہے کہ امّتِ مسلمہ کےلئے لمحہءفکریا ہے کہ ماضی میں مسلمانوں کے آبا و اجداد ابلیس اور اسکے مریدوں کی چالوں میں آکر گمراہیی کی دلَدل میں علماء کے زیر اثر پھنس جاتے تھے مگر آج تو انٹر نیٹ کے ذریعے علمِ کثیر کا منطقی اور دلیلی دور ہے لہٰذا اللہ و رسول کے فرمودات پر غور و فکر کرکے اھلِ بیت کے سفینے پر سوار ہوکر صحابیت کے چکر ویو سے نجات حاصل کرکے ماضی کی غلطیوں،  کوتاہیوں نادانیوں،  حماقتوں اور جہالتوں کا ازالہ کریں اور مذہب اھل بیت یعنی محمدیت اختیار کریں اور یقین کرلیں کہ فرقہ،  فقہ،  مسلک اور مذہب بس ایک ہی محمّدی باقی فقہیں،  فرقے اور مسالک دنیاوی،  سیاسی اور شخصی پیداوار ہیں... آخرت میں علماء،  فقہاء اور مجتہدین اپنا دامن بچالیں گے اگر چہ میری نظروں میں اللہ رسول اور آلِ محمد کے سب سے زیادہ معتوب و مطعون وہی ہونگے جب روزِ محشر اللہ کی عدالت میں حقوقِ آلِ محمد کی حق تلفی اور غصبیت کی پاداش میں وہ کٹہرے میں کھڑے ہوکر بغلیں جھانکیں گے اور جنت و جھنم کے قسیم مولا علی اپنی ولایت،  امامت،  وصایت اور ظاہری خلافت سے منحرفوں کا گریبان پکڑیں گے اور امّتں مسلمہ کے فرقوں کے نام نہاد اور خودساختہ رہبروں کو اللہ و رسول کے سامنے جوابدہ ہونا پڑیگا جب حضور فرمائیں گے میں نے رخصت ہونے سے پیشتر امّت کو نجات کا نسخہ بتادیاتھا کہ نجات کےلئے اھل بیت کی کشتی پر سوار ہوجاؤ اصحاب کی کشتی پر نہیں- قرآن کتاب اللہ اور اھل بیت عترت سے متمسک رہنے کی دوا شفا کے لیے دے دی تھی اور آخری نسخہ اجرِ رسالت کی ادائیگی ہے جو مودت و محبتِ اھلِ بیت نہیں کرے گا وہ بحکم اللہ اجرِ رسالت ادا نہیں کرےگا اسکا اللہ،  رسول و اولوالامر پر ایمان نہیں اور جسکا اللہ،  رسول اور قرآن پر ایمان نہیں وہ مومن تو دور مسلمان ہی نہیں.... خدارا راہِ حق نجات کےلئے اختیار کریں.... آمین
* نظام الحسینی

اسلامی تصّوف میں صوفیاء کے پانچ طبقات

حضور صلعم کے زمانے میں چونکہ اھلِ بیت کے بعد صحابہ کا سب سے بڑا درجہ تھا اسیلئے مسجدِ نبوی کے چبوترے پر دن رات نشیب و فراز میں زندگی گزارنے والے قلیل تعداد میں اھلِ طریقت،  حقیقت و معرفت اصحابِ صفّہ کہلاتے تھے صوفی یا ولی یا عارف نہیں- وہ صوف لباس زیب تن کرتے تھے اسلئے اصحابِ صفّہ کہلاتے تھے وہ لوگ حضور کے مرید و طالب تھے اور مولا علی روحانی،  باطنی اور عرفانی خلیفہ کی حیثیت سے. انہیں علمِ لدنّی کی تعلیم اور عرفانِ الٰہی کی تربیت کرتے تھے جن میں حضرت بلال،  حضرت سلمان فارسی،  حضرت ابوذر غفاری،  حضرت سعید خدری،  حضرت مقداد،  حضرت قنبر،  حضرت کمیل،  حضرت میثم وغیرہ کے نام قابلِ ذکر ہیں اور اصحابِ صفّہ دن رات یادِالٰہی میں مست و بیخود رہتے تھےنیز ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی،  روحانی اور عرفانی عبادات مثلاً اذکار،  اشغال و مراقبہ وغیرہ میں مگن رہتے تھے گرچہ اس زمانے میں وہ صوفی نہیں کہلاتے تھے مگر صوفی صفت تھے اور ان میں سے بیشتر اصحاب کو حضور اپنی حیاتِ طیبہ میں شیعیانِ علی کہ کر خطاب فرماتے تھے حتٰی کہ سلمان فارسی کو اپنے اھلِ بیت میں شمار فرماتے تھے- مولا علی کے چار روحانی خلفاء تھے دو حسنین علیہ السلام اھل بیت سے تیسرے حضور کے غلام زید کے بیٹے کمیل اور چوتھے حضور کی کنیز کے بیٹے خواجہ حسن بصری جنکے بارے میں مشہور ہے کہ انکی ماں کام میں مشغول تھیں اور انکا بچّہ حسن بصری رورہا تھا اتنے میں گھر میں داخل ہوئے اور روتے بچّے کو گود میں اٹھالیا جسکی برکت سے حسن بصری نے ولی اللہ کی حیثیت سے اتنا بلند مقام پالیا کہ امام العارفین اور سیّد الاولیاء نے انہیں خلافت دی- اھلِ معرفت کے سارے سلاسل حضرت امام حسین اور خواجہ حسن بصری سے آج تک جاری و ساری ہیں- تابعین میں حضرت اویس قرنی جیسے عاشقِ رسول تھے جنہوں نے حضور کی ظاہری زیارت نہیں کی تھی مگر باطنی و روحانی بیعت کی بناء پر وہ اپنے مرشد حضور صلعم سے فنا فی الشیخ کے درجے پر غیبی طور پر فائز تھے- تبع تابعین میں معروف اولیاء و اصفیاء معروف کرخی،  حبیب عجمی،  فضیل بن عیاض وغیرہ تھے- اسطرح حضرت امام علی رضا علیہ السلام تک غیر آلِ محمد اور غیر سادات ائمّہ طاہرین کی روحانی بیعت کی بدولت اپنی باطنی عبادات کے ذریعے عرفانی پیاس بجھاتے رہے اور عرفان کی منازل ائمہ اطہار کی رہنمائ میں طے کرتے گئے- امام جعفر صادق علیہ السلام نے فقہءمحمدیہ کی بنیاد عملی طور پر رکھی جسے انکے شاگردوں نے فقہءجعفریہ سے منسوب کیا- اس زمانے تک جتنے عرفاء ائمہ اطہار سے تعلیم و تربیتِ معرفت حاصل کرتے تھے کسی ظاہری فقہ کی عدم موجودگی میں فقہءمحمدی یعنی سنت و سیرت محمدی و آلِ محمدی کی تقلید و پیروی کرتے ہوئے" عطیع اللہ و عطیع الرسول و اولوالامر منکم" کی اطاعت و اتباع کرتے تھے یعنی ائمّہ اطہار کی- اسوقت تک کے عرفاء فقہءمحمدیہ کے شرعی مسائل قرآن و احادیثِ محمد و آلِ محمد کے مطابق عمل کرتے تھے اسکے بعد امام باقر اور امام جعفر علیہ السلام کے شاگرد ابو حنیفہ نے اجتہاد کرکے قیاس کو محور بنایا اور انک شاگردوں نے فقہءجعفری سے انحراف کرکے فقہء حنفیہ رائج کی پھر یکے بعد دیگرے مالکی،  شافعی اور حنبلی کی فقہیں منظر عام پر آئیں اور آخر میں عبد الوہاب نجدی کی فقہءوھابیہ آلِ محمد کی ضد و دشمنی میں رائج کی گئ- دریں اثناء اھل طریقت اور اھلِ سلاسل کے پانچ طبقات تاریخِ اسلام کے افق پر نمودار ہوچکے تھے- پہلا طبقہ ولیوں،  صوفیوں اور عارفوں کا وہ تھا جو چھ فقہوں کے رواج پانے سے قبل فقہء محمدیہ یعنی قرآن و سنت و سیرت محمد و آلِ محمد کو شریعت و طریقت کی منازلِ مقصود تصور کرتا تھا- فقہوں کے رائج ہونے پر دوسرے طبقے نے روش بدلی اور شریعت فقہاء سے لی اور معرفت ائّمہ اطہار سے جبکہ تیسرے طبقے نے شریعت فقہاء سے لی اور سلاسل و طریقت میں اھلِ سنّت کی فقہوں اور عقیدوں کے مطابق غیر عرفانی خلفاء اور صحابہ کو اھلِ معرفت میں شامل کرلیا مگر معرفت کا منبع شاہِ ولایت مولا علی کو ہی برقرار رکھا چوتھا طبقہ خود کو تصّوفِ اھلِ سنّت الجماعت کے نام سے مشہور کرانے میں مصروف ہوگیا اور پنجتن پاک کی افضلیت،  اہمیت،  افادیت و قدرو منزلت کے ساتھ چار خلفاء راشدین کو حضور کے چار یار سے تعبیر کرنے لگا اور پانچواں طبقہ صوفیوں کا وہ عالمِ وجود میں جانے رعوٰی کیا کہ نقشبندیہ سلسلے مولا علی سے نہیں بلکہ حضرت ابوبکر سے شروع ہوا ہے مگر یہاں نقشبندی سلسلے کے بانی سید بہاء الدین نقشبند نے خود وضاحت فرمادی کہ نسبی سلسلہ حضرت ابوبکر سے ہے مگر روحانی،  باطنی و عرفانی شجرہ مولا علی سے ہی ملتا ہے غرضکہ اسلامی تصّوف جس نے خود کو یونانی،  ھندوی،  بدھ مت اور ایرانی عصّوف اور درویشی نیز رھبانیت سے آلودہ نہیں ہونے دیا مگر اھلِ بیت و آلِ محمد کی ضد،  عداوت،حسد،  مخاصمت اور ہماری،  سیاسی انقلابات اور حکمرانوں کی یاری میں سرشار دنیا پرست،  خود پرست،  منصب پرست اور نفس پرست نام نہاد خودساختہ صوفیوں نے ایران و عراق کے علمائے ظاہر کے ساتھ سودے بازی کرکے عقائد اھلِ بیت و چہاردہ معصومین و آلِ محمد کو کاری ضرب. لگایا اور جھوٹی حدیثوں اور روایتوں کا سہارا لیکر اجتہاد کے نقاب میں مجتہدین نے بھولے بھالے شیعوں کو معرفت اور تصوف کے اس انمول اور بیش بہا خزانے اور سرمائے سے محروم کردیا جو اھلِ بیت و آلِ محمد سے قیامت تک منسوب رہیگا
* نظام الحسینی

دعا


#Transliteration:-
"Ilaahi ba'haq e Bani Fatima,
Ke Bar koul e Imaa'n kuni khatima... 
Agar dao'atam rad kuni dar qubool,
Mann'o dast'o damaan e Aal'e Rasool (saw)..."

#Urdu_Translation:-
"Ae Rabb, Aulaad e Sayyidah Fatima ke sadqey, 
Mujhe Imaan pe mout naseeb farma...
Meri duaa qubool ho ya naa ho,
Buss mere hath me Daman e Aal'e Rasool (saw) rakhna..."

#English_Translation:-
" Oh Lord, for the sake of Progeny of Sayyida Fatimah, 
Grant me death with Imaan...
Whether my dua is accepted or not,
Always keep my hand attached to the door of Progeny of the Holy Prophet (saw)..."

- Shaykh Sadi Shirazi Soharwardi (Rahima'ullah)

شب کی پانچ عبادات

سرورِ کائنات حضور مقبول صلٰی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مولائے کائنات حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے فرمایا کہ اے علی!  رات کو پانچ کام کرکے سویا کرو:--
1- چار ہزار دینار صدقہ دے کر
2- ایک قرآن شریف پڑھ کر
3- جنّت کی قیمت دے کر
4- دو لڑنے والوں میں صلح کرا کر
5- ایک حج پورا کرکے
مولا علی نے عرض کیا یا رسول اللہ صلعم!  یہ کام بہت دشوار. ہے،  کیسے ہوسکے گا؟ 
 حضور نے ارشاد فرمایا:-- 1- چار مرتبہ سورہءفاتحہ پڑھ کر سویا کرو اسکے. بدلے چار ہزار دینار صدقہ تمہارے نامہءاعمال میں لکھا جائے گا
2- تین مرتبہ سورہءاخلاص" قل ھو اللہُ احد" پڑھ کر سویا کرو ایک قرآن پاک پڑھنے کے برابر ثواب ملے گا
3- تین مرتبہ درود شریف پڑھ کر سویا کرو کہ اسطرح جنّت کی قیمت ادا ہوگی
4- دس مرتبہ استغفار پڑھ کر سویا کرو اسکا ثواب دو لڑنے والوں میں صلح کرانے کے برابر ہوگا
5- چار مرتبہ تیسرا کلمہ تمجید پڑھ کر سویا کرو کہ ایک حج کے برابر ثواب ہوگا
حضرت علی ع نے عرض کیا یا رسول اللہ صلعم میں ہر شب یہ عمل کرکے سویا کرونگا
دراصل مولا علی تو سِّر وحدت اور کُلِّ ایمان ہیں،  انہیں عبادات جلی اور خفی کا پورو علم تھا مگر حضور نے انکے بہانے مومنین کو باطنی عبادات کی تعلیم دی ہے تاکہ قلیل عبادت سے کثیر ثواب حاصل ہو...... نظام الحسینی

اقوالِ زّریں

* اللہ انصاف کرنے والوں کو ہی دوست رکھتا ہے
* اللہ بے نیاز و بردبار ہے
* اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو
* اللہ کسی فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا
* اللہ کی یاد سے غافل نہ بنو
* اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے
* اللہ کسی ناشکرے اور بدعمل انسان کو پسند نہیں کرتا
* اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے
* لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ
* مسلمان مسلمان کا آئینہ ہے
* دل شکستہ نہ ہو،  غم نہ کرو،تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو
* حق کی خدمت کےلئے کمربستہ رہو
* مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر ہے
* اللہ سے ڈرو اسکی سزا بہت سخت ہے
* علم وہ موتی ہے جسکی چوری نہیں کی جاسکتی
* انسان خاموشی میں کائنات میں بہتی ہوئ قوت کو اپنی طرف کھینچتا ہے
* ایک چھلانگ لگانے سے انسان کنویں میں گرسکتا ہے مگر سو چھلانگ لگانے پر بھی باہر نہیں آسکتا
* حاسد ہمیشہ غم میں مبتلا رہتا ہے
* آہستہ بولنا،  نیچی نگاہ رکھنا،  میانہ چال سے چلنا ایمان کی نشانی ہے
* کم بولنا حکمت ہے،  کم سونا عبادت ہے،  کم کھانا صحت ہے
* دل کی سب سے بڑی بیماری حسد ہے
* اللہ کو ہر وقت اپنے ساتھ سمجگنا افضل ترین ایمان ہے
* جو چیز ساتھ جاتی ہے وہ عمل ہے
* خوبیاں قربانیوں سے پیدا ہوتی ہیں
* اپنی مصیبتوں کو چھپانا،  نیکی کے بہت بڑے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے
* وہ مسلمان نہیں جس کے ہاتھ اور زبان سے اسکا ہمسایہ امان میں نہ ہو
* وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا جس نے ماں باپ دونوں یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا مگر انکی خدمت کرکے جنت میں داخل نہ ہوا
* بہادر وہ نہیں جو پہلوان ہو،  جو دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصے کے وقت خود کو قابو میں رکھے
* جو شخص یتیم کو اپنے کھانے پینے میں شریک کرے،  اللہ اسکے لئے جنت واجب کردے گا
* اب بھی ہم نے تم کو پیدا کیا ہے اور تم قیامت کے دن دوبارہ پید کرنے کو حق کیوں نہیں سمجھتے جس کا کہ ہم نے وعدہ کیا ہے
* ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر پانچ حق ہے...سلام کا جواب دینا،  بیمار پرسی کرنا،  جنازے کے ساتھ جانا،  بلاوے کو قبول کرنا،  چھینک کا جواب دینا
* اشخاص کو حق سے پہچانو،  حق کو اشخاص سے نہیں
* نیکی کے عوض نیکی،  حقِ ادائیگی ہے
* تعجب ہے اس پر جو موت کو حق جانتا ہے اور پھر بھی ہنستا ہے
* جو شخص بندوں کے حقوق ادا کرتا ہے وہ خدائے تعالٰی کے بھی ادا کریگا
* خدا جو کچھ تمہارے حق میں پسند کرے تم اسکے حق میں رہو
* تمہارا رزق آسمانوں میں ہے اور تم اسکو زمین میں سمجھے ہو
* تمام اعضاء کے مقابلے میں زبان کو سخت ترین عذاب ہوگا
* جھوٹی قسم کھانے والے کا ٹھکانا جہنم ہے
* ظ الموں پر اللہ کی لعنت ہوتی ہے
* دنیا کی عزت مال و دولت سے ہے اور آخرت کی عزت عقائد و اعمال سے ہے
* ماں باپ کے نافرمان کا فرض و نفل ایک بھی قبول نہیں ہوتا
* گناہوں سے بچنا چاہتے ہو تو کثرت سے استغفار پڑھا کرو
* بزرگ بننا چاہتے ہو تو مصیبت کے وقت خداوند قدوس کی شکایت نہ کرو
* ایمان مکمل کرنا چاہتے ہو تو ہمیشہ پاک اور طاہر رہا کرو
* عادل و منصف بننا چاہتے ہو تو دوسروں کےلئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے کرتے ہو
* زبان کی حفاظت دولت سے زیادہ مشکل ہوتی ہے
* عالمِ صالح سے ایک گھنٹے کی گفتگو دس برس کے مطالعے سے زیادہ مفید ہے
* وہ شخص جو چپ رہا اس نے نجات پائ
* مصائب سے نہ گھبراؤ کیونکہ ستارے اندھیرے میں ہی چمکتے ہیں
* کاہلی،  تباہی و بربادی کا دروازہ کھول دیتی ہے
* وقت کی قدر کرو وقت بڑی نعمت ہے
* موت سے نہ ڈرو وہ زندگی کا انجام ہے اور ضرور آئیگی
* رنگ روپ و دولت پر مٹنا بے جا ہے
* عقلمند وہ ہے جو دوسروں کو بیوقوف نہیں سمجھتا
* عقل ایک خدائ نعمت ہے جو تعلیم اور تجربہ سے زیادہ ہوتی ہے
* ہدایت کا سب سے پہلا مستحق تمہارا نفس ہے
* برا کام صرف اسلئے برا نہیں کہ وہ ممنوع ہے بلکہ وہ نقصاندہ بھی ہے
* اخلاق کا اچھا ہونا محبتِ الٰہی کی دلیل ہے
* دولت انسان کو شریف نہیں بناسکتی اسی طرح غربت انسان کو کمینہ نہیں بناسکتی
* سچائ کبھی اپنی تلاش کرنے والوں کو ذلیل نہیں کرتی
* دنیا کی ہر لذّت فانی ہے اسلئے ابدی راحتوں کو تلاش کرو
* دوزخ سے نجات چاہتے ہو تو خدمتِ خلقِ خدا کو شعار بناؤ
* نظام الحسینی

نجات کا دارومدار عقائد پر ہے اعمال پر نہیں

 یہ امر مسلّم ہے کہ نجات ہی کی غرض سے اللہ تعالٰی نے دنیا میں ایک لاکھ 24 ہزار انبیاء و مرسلین بھیجے اور حضور صلعم آخری نبی اور رسول ہیں جنکی نبّت و رسالت قیامت تک کےلئے ہے- ظاہری طور پر وہ بحیثیت ذات محمد بن عبداللہ آپ پردہ فرماگئے مگر بحکم اللہ انہوں نے اپنے بعد بارہ ھادیوں کو قیامت تک ہدایت کےلئے نامزد اور مخصوص فرمادیا جو بہ اعتبار صفت اپنے اپنے زمانے کا صفاتی محمد ہے کیونکہ حضور کی متفقہ حدیث ہے کہ " ہم میں سے اوّل بھی محمد،  اوسط بھی محمد،  آخری بھی محمد غرضکہ ہم کُل کے کُل محمد ہیں"- یعنی اپنے اپنے دور میں حضور کے بارہ خلفاء،  اوصیاء،  ائمّہ،جانشیں سب قریش اور بنی ہاشم سے ہونگے یہ الگ بات ہے کہ امتِ مسلمہ نے اسی طرح حدیث کی بے حرمتی کرکے" بنی ہاشم" کو حذف کرکے اپنے مطلب کے خلفاء منتخب کرلئے جنکا تعلق قریش سے تھا اور جن میں معاویہ اور یزید بھی شامل ہیں جبکہ قولِ الٰہی ہے کہ امامت ابراہیم کی ذرّیت میں میں رہےگی مگر یہ منصب ظالموں کو نہیں ملے گا مگر امتِ مسلمہ کو چڑھتے سورج کی پوجا میں نہ اللہ کے حکم کی پرواہ رہی اور نہ ہی رسول کی وصّیت کی اور انہوں نے رسول کی ضد میں اجماع و شورٰی کے ذریعے اللہ و رسول کی خلاف ورزی کرکے سیاسی مصلحت اور آلِ محمد کی ضد،  حسد،  تعّصب،  کدورت اور دشمنی میں بنی ہاشم کو چھوڑ کرقبیلہءقریش سے یکے بعد دیگرے خلفاء منتخب کرلئے اور حقوقِ آلِ محمد غصب کرکے اسلام کو حق و باطل یعنی حسینی و یزیدی اسلام میں منقسم کردیا - اسی طرح اپنے مفاد میں صحیح حدیثِ ثقلین" میں تم میں دو گرانقدر برابر وزن کی چیزیں--- قرآن کتاب اور اھلِ بیت عترت معلمّان چھوڑے جارہا ہوں دونوں سے متسمک رہوگے تو گمراہ نہیں ہوگے حتٰی کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کروگے"- اس حدیث کو بھی امت نے اھلِ بیت کی جگہ سنّت کردیا جبکہ مقام فکر ہے کہ جو قرآن اور سنّت نہیں مانے گا تو مسلمان ہی باقی نہیں رہے گا تو گمراہی کا کہاں مسئلہ ہے،  حضور کی وفات کے وقت کہنے والے نے بغض آلِ محمد میں اپنے عقیدے کا اعلان کردیا کہ ہمارے لئے قرآن کافی ہے اھلِ بیت سے انکاری فرقوں کی بنیاد اسی قول پر مبنی ہے- تیسری حقیقت یہ کھل کر آی کہ مخالفینِ اھلِ بیت سفینہءاھل. بیت پر سوار نہیں ہوئے اور کشتی سے دور. رہے جبکہ حضور کی متفقہ حدیث پاک ہے" میرے اھل بیت کی مثال کشتیءنوح جیسی ہے جو اس پر سوار ہوا نجات پاگیا اور جو اس سے دور ہوا غرقاب ہوگیا- چوتھی حقیقت یہ ہے کہ اللہ پاک کے حکم سے حضور نے اجرِ رسالت میں مودت و محبت اقرباء یعنی اھل بیت عترت سے مودت و محبت طلب کیا جو فرض الفرض اور واجب الواجب ہے مگر امتِ مسلمہ نے اجرِ رسالت کی ادائیگی ظلم و ستم،  وحشت و بربریت،حق تلفی و غصبیت کے ذریعے کی اور ان عقائدِ باطلہ کے ساتھ اعمال کی بنیاد پر جنّت کے ٹھیکیدار اور دعویدار بنے بیٹھے ہیں... یہ ایسا ہی ہے کہ توحید میں شرک، اللہ کے عدل سے انکار،  رسالت پر شک،  امامتِ الٰہیہ سے انکار اور قیامت کا مذاق اڑاکر دن رات نماز،  روزہ،  تہجّد،  سال میں حج و زکواۃ وغیرہ بکثرت اعمال بجالائے مگر عقائد باطلہ و گمراہ کن ہوں تو ایسوں کی ہدایت و نجات کیا معنی؟ 
 اسیلئے نجات کا دارومدار عقائد حمیدہ پر ہے عقائدِ باطلہ پر نہیں- ہر مذہب کے کچھ اصول یعنی جڑیں اور کچھ فروع یعنی شاخیں ہوتی ہیں اور حقیقت یہی ہے کہ جڑوں کے بغیر شاخوں کا تصور بھی محال ہے اور اگر جڑ ہی سوکھ یا سڑ جائے تو شاخوں پر پھول پھل نہ آئیں گے اور نہ اس درخت سے کوئ فیضیاب ہوگا- درخت کے وجود و فوائد کا انحصار جڑ پر ہوتا ہے شاخوں پر نہیں- اسیلئے اگر عقیدہ صحیح نہیں تو عملِ کثیر بھی بے فائدہ اور بیسود ہے اور اگر عقیدہ صحیح ہے تو قلیل عمل بھی مقبول ہے اس سلسلے میں علاّمہ حلّی کی کتاب" احسن العقائد" میں منقول ہے" اصولِ دین وہ ہیں جن پر دین کی بنیاد قائم ہے اگر ان میں سے کسی ایک کو علیٰحدہ کرلیا جائے تو دین ہی باقی نہ رہے"- مزید فرماتے ہیں" عبادات و اعمال کی قبولیت اور نجاتِ اخروی کا دارومدار اصولِ دین،  اسلام کی معرفت اور انکے اعتقاد پر ہے- اصول دین کا اعتقاد و عدم اعتقاد ہی ثواب دائمی و عذاب دائمی کا سبب ہے"- سورہ طور کی21 آیت میں ارشاد خداوندی ہے " اور جو لوگ ایمان لائے اور انکی اولاد نے ایمان میں انکا اتباع کیا ہم انکے ساتھ انکی اولاد کو بھی ملادیں گے"- کتاب المومن میں امام محمد باقر ع کایہ قول موجود ہے" قیامت کے خداوند عالم اپنے مومن بندے کو روکے گا اور اسکا ایک ایک گناہ گنوائے گا پھر انہیں معاف فرمائے گا اور اسکی خبر کسی ملک مقرب کو ہوگی نہ کسی نبی مرسل کو"- علامہ حلّی مزید رقمطراز ہیں کہ رسول اللہ کی امّت کے73 فرقوں میں سے 72 فرقوں کا ناری اور ایک فرقے کا ناجی ہونا فرقوں کے اعمال کے لحاظ سے نہیں بلکہ عقائد کے اعتبار سے ہے اس لئے کہ اعمال کے لحاظ سے کسی فرقے کے کل افراد کا ناری یا ناجی ہونا عقل کے خلاف ہے- کسی فرقے کے تمام افراد اعمال میں متحد نہیں ہیں- جب اعمال کے لحاظ سے کسی فرقے کے افراد میں مساوات نہیں ہے تو جزا و سزا میں مساوات کیسے ہوسکتی ہے؟  پس امت محمدیہ کے ہر فرقے کا فرض ہے کہ وہ اپنے عقائد کو عقل کی کسوٹی پر پرکھے کیونکہ اعمال میں غلطیاں قابل عفو ہیں لیکن وہ عقائد جن پر مذہب کی بنیاد قائم ہے اگر غلط و باطل ہیں تو اس. غلطی کے عفو کا امکان نہیں ہے- اسیلئے امتِ مسلمہ کے ہر فرقے کے ہر فرد کو احادیثِ نبوی اور معصومین کے فرمودات کی روشنی میں پہلے اپنے عقائد کی درستگی اور پھر اپنے اعمالِ صالحہ کی جانب متوجہ ہونا ہدایت و نجات کا سرچشمہ ہوگا..... نظام الحسینی

راہِ حق

شہنشاہِ ولایت،  امامت،  وصایت،  معرفت و فقر اور امام الاولیاء،  عرفاء و صوفیاء مولا علی بن ابی طالب کے قدموں کی خاک کو سرمہ بناکر آنکھوں میں لگانے والے خادمان غلامان عاشقان علمائے باطن بن کر فنا فی اللہ اور بقا باللہ کے درجات پر فائز ہوکر ہر دور میں اپنے عرفان اور روحانی اقدار سے انسانیت کو بلا امتیاز مذہب،  مسلک،  فرقہ انسانوں کو فیضیاب کرتے رہیں گے کیونکہ انکا اللہ رب العالمین،  انکا رسول رحمتہ العالمین اور انکا مولا،  ولی و مرشد اکبر مولائے کائنات ہیں۔۔۔۔علمائے ظاہر تو اجتہاد کے نام پر معرفتِ الٰہی و چہاردہ معصومین،  آلِ محمد،  صالح اصحاب اور اولیاء اللہ سے غافل ہیں اور شریعت اور فقہ کی آڑ میں اپنا الّو سیدھا کررہے ہیں جبکہ معرفت اور تصّوف کا بیش بہا خزانہ ہمارے چہاردہ معصومین کے اسرار و رموز سے منسوب ہے مگر ان مجتہدین نے چند اسلام دشمن زرخرید ضمیر فروش دنیا پرست حکمراں نواز خودساختہ نام نہاد جعلی اور ڈھونگی ولیوں صوفیوں اور عارفوں کی من مانی حرکتوں اور سرگرمیوں کا بہانہ بناکر معرفت و تصّوف کا انکار کیا اور اسے گمراہ و زندیقیت قرار دیکر شیعوں کو دور کرادیا کیونکہ علمائے باطن و معرفت سے انہیِں انکی خداپرستی اور مولاپرستی کی وجہ سے حسد تھا اور انکی موجودگی میِں وہ دین،  شریعت اور فقہ کے ٹھیکیدار نہیں بن سکتے تھے اسیلئے انہوں نے تصوف کے سیاہ و تاریک گوشوں کو اجاگر کرکے انکی مذّمت کرکے شیعوں کو خداپرستی سے دور کراکے مجتہد پرستی کی راہ پر گامزن کردیا۔۔اب بھی وقت ہے کہ اولیاء،  عرفاء و صوفیاء،  جو غلامانِ مولا علی ہیں، کی معرفت بغض،  کینہ،  حسد،  عداوت،  کدورت،  نفرت کو بالائے طاق رکھ کر خلوص،  صدق و محبت سے حاصل کریں۔۔۔آمین۔۔۔۔نظام الحسینی